">
ADVERTISEMENT
دن رات حوروں کے بدن کی پیمائش کی فکر میں غلطاں
مردانہ کمزوری کے اشتہاروں کی دیواروں سے سجی
بستی میں بچیوں، بلیوں اور اندھی ڈولفن کے شکاری
سرعتِ انزال کے خوف سے کانپنے والے نام کے مرد
آج تیری خواب گاہ میں نقب لگا کر
تیرے پستانوں کے دائروں کے بھنور میں
اپنے پہلو میں سونے والی زبان کی کڑوی عورتوں کو
بھول کر چھوٹے موٹے ابلیس ہی تو ہوئے جاتے ہیں
تیرے مرمریں بدن کے سرسراتے ہیولے پہ مشت زنی کے قطرے
ان کے مجبوری کے لبادوں پہ چپک کر سوکھ چکے ہیں
یہ وہ ہیں جو اپنی غیرت کو خود ہی تھوک چکے ہیں
میں نے بھی تیرے بدن کی شفافیت میں اپنا چہرہ دیکھا
تو تیرے بنانے والے کی صناعی پہ بے ساختہ پیار آیا
آج میری آنکھوں میں تو حور کا ایس آئی یونٹ ہے
تو مغموم نہ ہو بلکہ فخر سے سر اُٹھا
تو نے اٹھوائے ہیں خوابیدہ قضیب اور دعا میں ہاتھ
تو نے آج ستر حوروں کی تلاش میں ماتھا سیاہ کرتے
باریش سراپوں کی سیاہی کو آشکار کیا ہے
آج رات ساری بانہوں کو میسر جوانیاں
تجھے کوڑھ صورتی کی بددعا دےکر سوال کر رہی ہیں
کیا میں علیزے سحر سے کم خوبصورت ہوں
اور جھوٹے انکار سے خود کو تسلی دینے والی عورتیں
اپنے خوابوں کے ہمزاد پلاسٹک سرجن سے
تیری جھلک کو خود پہ طاری کرنے کا حکم دیتی ہیں
سرجن سر جھکا کر صرف یہی کہتا ہے
ابھی میڈیکل سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی
یہ جواب تیری مخمور جوانی کی مغرور فتح ہے
بس تو مرنے سے پہلے
اپنی آخری دو سانسوں کے بیچ کا ٹھہراؤ
ان سارے بوڑھے راسپوتین عقیدہ مردوں کے نام کر جانا
جو آج تجھے پانے کی حسرت میں
اپنی چھتوں کو گھورتے ہوئے کھلی آنکھوں سے
خوابوں کی کرچیاں چنتے چنتے
انہی زبان کی کڑوی عورتوں کے ساتھ سو چکے ہیں
جن کے ہمزاد پلاسٹک سرجن بھی انہیں جواب دے چکے ہیں
تو مغموم نہ ہو بلکہ فخر سے سر اٹھا۔۔۔۔۔۔
(اویس اقبال)
Comments 3
جواب دیں جواب منسوخ کریں
Advertisement. Scroll to continue reading.
">
















بہت عمدہ بلکہ اعلیٰ نظم
علیزے سحر کی خوبصورتی کو جس آفاقی جمالیات کے حوالوں سے اویس نے سراہا ہے وہ بلاشبہ قدرت کی صناعی کا ایک ایسا لمحہ ہے جسے انسان کے لیے مختص کر دیا گیا ہے۔
بہت شکریہ سر!
آپ کی رائے یقیناً سند کا درجہ رکھتی ہے۔ آپ کا تبصرہ اویس اقبال تک بھی پہنچادیا گیا ہے۔
جناب
جناب
جناب
یہاں میری سمجھ میں ایک بات نہیں آرہی کہ جو اس نظم میں علیزے سحر کو فرشتہ و حور بنا کر اور مردوں کو کتا بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
اگر علیزے کوئ گھریلو شریف معصوم لڑکی ہوتی تو یہ سب کہنا بنتا تھا کہ ایسی معصوم خواتین کو بھی اوباش اور بدبخت لوگ اپنے جال میں پھنسا کر اپنا مقصد پورا کرتے ہیں۔
لیکن علیزے سحر ٹک ٹاک پر کیا کررہی تھی؟ اس کی ہر وڈیو میں اس کا لباس اور انداز مکمل برھنگی سے زیادہ provocative ہوتا ہے۔ وہ جس گاؤں دیہات کی زندگی کو پیش کرتی ہیں کیا ہمارے گاؤں دیہات کی خواتین ایسا لباس پہنتی ہیں؟ معاف کیجئے گا کہ اگر آپ علیزے کو پاکستان کی گاؤں دیہات کی خواتین کی ترجمانی کرنے والا سمجھتے ہیں تو پھر تو علیزے کا جرم بہت سنگین ہے جو سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستانی دیہات کی سیدھی سادی خواتین کا ایک ناشائستہ اور گندا امیج پیش کررہی ہے۔ آپ نے اپنی اس نظم میں مردوں کی جتنی خامیاں و بیماریاں بیان کی ہیں یہ معصوم کچے ذہنوں میں علزیزے جیسی خواتین ہی اپنی حرکتوں سے یہ تحریک پیدا کرتی ہیں۔
گاؤں دیہات تو چھوڑئے کچھ طبقوں کو چھوڑ کر ہمارے شہر کی عام گھریلو خواتین آج بھی گھر سے باہر نکلتے وقت یا کسی اجنبی کے سامنے آتے وقت سر اور سینے کو ڈھکنا لازمی سمجھتی ہیں۔
علیزے کیا کررہی تھی؟ اس کو تو یہ تک شرم نہ تھی کہ سارا آگا پیچھا کھل رہا ہے لیکن وہ دیدہ دانستہ جانتے بوجھتے یہ سب دھڑلے سے کررہی تھی۔ ان کی کوئ بھی وڈیو دیکھ لیجئے۔ ان کے جو ملین فالورز ہیں کیا وہ گاؤں دیہات کی ثقافت دیکھنے کے لئے ان کے شیدائ ہیں یا بات کچھ اور ہے؟
یہ علیزے بھی جانتی ہے اور ان کے فالورز بھی۔
تو پھر اب ان کو فرشتہ بنا کر کس لئے پیش کیا جارہا ہے۔
برے کام کا برا انجام ہی ہوتا ہے۔ دنیا کو برا کہنا زمانے کو برا کہنے کی تُک نہیں بنتی کیونکہ دنیا تو ہے ہی ایک کتا۔دنیا تو ہے ہی غلاظت کا ڈھیر۔اور اس دنیا کو گندگی اور غلاظت کا ڈھیر جو بنارہے ہیں ان میں علیزے بھی برابر کا حصہ ڈال رہی ہیں۔
آپ جب کتے کو گوشت دکھائیں گے تو وہ تو لازمی جھپٹے گا۔ لیکن آپ اگر یہ چاہتے ہیں کہ کتے کو گوشت دکھاتے رہو اور وہ لپکے جھپٹے بھی نہیں تو یہ آپ کی غلطی ہے کتے کی نہیں۔ کتا تو کتا ہی ہے نا۔ لیکن آپ کیا کررہی ہیں؟
لاہور کے مینار پاکستان والی عائشہ کا کیا ہوا تھا۔ ابتدا میں کتنی مظلوم بنا کر پیش کیا گیا؟
لیکن بعد میں کیا پتہ چلا۔
تو یہاں اپنی شاعری اور کالمز سے علیزے کو فرشتہ ثابت کرنے والے زرا دھیرج رکھیں۔ کچھ بعید نہیں کہ یہ بھی کہیں فالورز اور شہرت بڑھانی کی چال ہی نہ ہو۔ ورنہ علیزے کا کیا چھپا تھا عوام کی نظر سے کہ جس کی پردہ داری ہو۔