پاکستان میں مہنگائی محض قیمتوں میں اضافے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسے معاشی اور سیاسی نظام کا اظہار ہے جس میں دولت پیدا کرنے والے عوام اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ دولت، وسائل اور فیصلہ سازی کی طاقت ایک محدود مراعات یافتہ طبقے کے ہاتھوں میں مرتکز ہے۔ مزدور اپنی محنت سے ملک کی معیشت چلاتا ہے، کسان زمین سے خوراک اگاتا ہے، محنت کش عورت گھر اور سماج کی بقا ءکے لیے اپنا وقت صرف کرتی ہے، اور نوجوان اپنے مستقبل کی تلاش میں دربدر ٹھوکریں کھاتےپھرتے ہیں، لیکن ان سب کی اجتماعی محنت سے پیدا ہونے والی دولت کا بڑا حصہ ان طبقات تک نہیں پہنچتا جو اسے پیدا کرتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے سے سمجھے بغیر مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کے مسئلے کی حقیقی نوعیت تک نہیں پہنچا جاسکتا۔
جواد احمد کے گیت میں اٹھایا گیا سوال، ’’کس نے کی ہے یہ مہنگائی؟ ۔۔ن لیگ، پی پی، پی ٹی آئی‘‘، اسی تضاد کو سیاسی سطح پر سامنے لاتا ہے۔ یہ محض تین سیاسی جماعتوں یا چند حکمران خاندانوں پر تنقید نہیں، بلکہ اس سیاسی معیشت پر سوال ہے جس میں اقتدار کی تبدیلی کے باوجود عام آدمی کی زندگی میں بنیادی تبدیلی نہیں آتی بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مزید مشکلات و مصائب ہیں کہ بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔ مسلم لیگ ۔ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی اختلافات، انتخابی مقابلے اور اقتدار کی کشمکش اپنی جگہ، لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ ان کی معاشی پالیسیوں سے کس طبقے کے مفادات پورے ہوتے ہیں، معاشی بحران کا بوجھ کون اُٹھاتا ہے، اور ریاست کے وسائل و اختیارات پر فیصلہ کن اثر کس کا ہے؟
مہنگائی محض معاشی بحران نہیں، طبقاتی مسئلہ ہے!
ترقی پسند فکرہمیں سکھاتی ہے کہ معاشی مسائل کو سماجی رشتوں اور طبقاتی طاقت کے تناظر میں دیکھا جائے۔ مہنگائی کی ہر صورت کی ایک ہی وجہ نہیں ہوتی، روپے کی قدر میں کمی، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ، درآمدات پر انحصار، منڈیوں میں اجارہ دارانہ طاقت، مالیاتی پالیسیوں اور عالمی معاشی حالات سمیت متعدد عوامل قیمتوں کو متاثر کرتے ہیں۔ لیکن ان عوامل کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی جڑا ہواہے کہ ان معاشی فیصلوں کی قیمت کون ادا کرتا ہے؟ جب بجلی، گیس، آٹا، دالیں، ادویات اور رہائش عام لوگوں کی قوتِ خرید سے باہر ہونے لگیں، تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ معیشت مشکلات کا شکار ہے ، بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ سماج میں موجود وسائل اور معاشی بوجھ کی تقسیم غیر
مساوی ہے۔ ایک طرف محدود آمدنی پر گزارا کرنے والے خاندان اپنی خوراک، علاج اور تعلیم میں کٹوتیاں کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف بڑے کاروباری مفادات، دولت مند طبقات اور طاقتور اشرافیائی معاشی گروہ ریاستی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔یہیں سے مہنگائی ایک طبقاتی مسئلہ بن جاتی ہے۔ اس کا حل صرف قیمتوں پر عارضی قابو پانے یا حکومت تبدیل کرنے میں نہیں، بلکہ ان معاشی اور سیاسی ڈھانچوں کو تبدیل کرنے میں ہے جو بحران کا بوجھ بار بار محنت کش اور مڈل کلاس عوام پر منتقل کرتے ہیں۔
شریف، بھٹو زرداری اور عمران شخصیات سے آگے نظام کا سوال!
گیت میں شریف، بھٹو زرداری اور عمران کو ’’مہنگائی کے تین نشان‘‘ قرار دینا ایک سیاسی نعرے سے بڑھ کر حکمران اشرافیہ کی استحصالی سیاست کے تسلسل پر تنقید ہے۔ اس کا مقصد مختلف حکومتوں کی معاشی پالیسیوں کو یکساں قرار دینا نہیں، بلکہ یہ پوچھنا ہے کہ سیاسی تبدیلیوں کے باوجود معاشی طاقت کی بنیادی تقسیم کیوں برقرار رہتی ہے۔ ایسے میں حکمران جماعتوں کا جائزہ ان کے نعروں، انتخابی وعدوں یا عوامی مقبولیت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ان کے طبقاتی کردار اور عملی پالیسیوں کی بنیاد پر لینا ضروری ہوجاتاہے۔ کون ٹیکس کا بوجھ اٹھاتا ہے؟ کون سرکاری وسائل سے فائدہ حاصل کرتا ہے؟ محنت کی پیداوار میں سے اُجرت اور منافع کا تناسب کیا ہے؟ زمین، صنعت، مالیاتی سرمائے اور قدرتی وسائل پر اختیار کس کے پاس ہے؟ اور معاشی بحران کے وقت ریاست کس طبقے کے تحفظ کو ترجیح دیتی ہے؟
یہ سوالات ہمیں سیاست کو محض شخصیات کے مقابلے سے نکال کر طبقاتی مفادات کے تجزیے تک لے جاتے ہیں۔تاہم، کسی بھی جماعت یا حکومت کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت اس کی مخصوص پالیسیوں، اقدامات اور نتائج کا ٹھوس جائزہ ازحد ضروری ہے۔ تمام حکومتیں لازماً ہر معاملے میں ایک جیسی نہیں ہوتیں، ان میں بعض کے درمیان معمولی اور ثانوی فرق ہو سکتے ہیں ۔ ترقی پسند تنقید کا مقصد فرق کو مٹانا نہیں، بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ مختلف سیاسی راستے کن معاشی حدود کے اندر کام کرتے ہیں اور کن طبقات کے مفادات کو تقویت دیتے ہیں۔ گیت کا اصل سوال اسی لیے اہم ہے؛ اگر چہرے بدلتے رہیں لیکن عوام کا استحصال اور معاشی بے اختیاری برقرار رہے تو کیا محض اقتدار کی تبدیلی کو حقیقی سماجی تبدیلی کہا جا سکتا ہے؟
اشرافیہ کی سیاست اور جمہوریت کی طبقاتی حدود!
پاکستان میں جمہوریت کا ایک بنیادی تضاد یہ ہے کہ عوام کو انتخابات کے ذریعے حکمران منتخب کرنے کا حق تو حاصل ہے، لیکن معاشی زندگی کے اہم فیصلوں پر ان کا اختیار بالکل بھی نہیں ہے۔ مزدور اپنی اجرت کا فیصلہ نہیں کرتا، کسان اکثر اپنی پیداوار کی قیمت اور منڈی کی شرائط پر مکمل اختیار نہیں رکھتا، اور عام شہری ان معاشی پالیسیوں کی تشکیل میں براہِ راست شریک نہیں ہوتا جو اس کی زندگی کا تعین کرتی ہیں۔اس صورتِ حال میں سیاسی جمہوریت موجود ہونے کے باوجود معاشی جمہوریت نامکمل رہتی ہے۔ جب سیاسی جماعتوں کی قیادت، انتخابی مہمات اور حکومتی ترجیحات دولت مند طبقات کے مفا دات کے اثر میں آجائیں، تو عوام کی سیاسی شرکت اکثر ووٹ ڈالنے تک محدود ہو جاتی ہے۔ شہری ہر چند سال بعد اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں، مگر روزمرہ زندگی میں ان کی بنیادی ضروریات اور معاشی تحفظ کے سوالات حل نہیں ہوتے۔
گیت میں ’’ارب پتی حکمران‘‘ اور ’’اشرافیہ کے غلام‘‘ جیسی ترکیبیں اسی سیاسی تضاد کو بے نقابکرتی ہیں۔ ان کا مفہوم یہ ہے کہ حکمرانوں کی سیاسی خودمختاری کو ان کے معاشی مفادات اور طبقاتی وابستگیوں سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔لیکن مسئلہ صرف یہ نہیں کہ حکمران امیر ہیں۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کیا ریاستی طاقت اور معاشی پالیسی عوام کی ضروریات کے تابع ہیں، یا عوام کو ایک ایسے نظام کے تابع رکھا جاتا ہے جس میں منافع، سرمایہ اور مراعات کو انسانی ضروریات پر فوقیت حاصل ہے؟
https://www.youtube.com/watch?v=MRtXyPNBGj8&list=RDMRtXyPNBGj8&start_radio=1
برابری پارٹی : عوام کی سیاست کا متبادل!
اس بحث میں برابری پارٹی پاکستان کی اہمیت اس دعوے میں مضمر ہے کہ سیاست کو مراعات یافتہ طبقات کی باہمی مسابقت سے نکال کر محنت کش عوام کی اجتماعی قوت سے جوڑا جائے۔ اگر روایتی حکمران سیاست کا بنیادی محور اقتدار کا حصول ہے، تو عوام دوست سیاست کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اقتدار اور وسائل کے استعمال کو عام لوگوں کی ضروریات، معاشی تحفظ اور سماجی برابری کے تابع بنایا جائے۔ جواد احمد کے گیت میں یہ مصرعے ایک متبادل سیاسی تصور پیش کرتے ہیں؛ ’’منگائی غربت تبھی ہو گی ختم،جب عام لوگ بنیں گے حکمران۔‘‘ اس کا مطلب صرف یہی نہیں کہ غریب پس منظر رکھنے والے افراد اسمبلیوں میں پہنچ جائیں۔ اگر وہ اقتدار میں پہنچ کر انہی معاشی مفادات اور ریاستی ترجیحات کے تابع ہو جائیں جن پر پہلے سے مراعات یافتہ طبقات کا غلبہ ہے، تو حکمرانوں کی سماجی شناخت بدلنے کے باوجود نظام کی بنیادی ساخت برقرار رہے گی۔ عوامی اقتدار کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ مزدور، کسان، کم آمدنی والے ملازمین، بے روزگار نوجوان اور دوسرے محروم طبقات نہ صرف انتخابی عمل میں حصہ لیں بلکہ پالیسی سازی، بجٹ کی ترجیحات، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور معاشی فیصلوں پر بھی مؤثر اجتماعی اختیار حاصل کریں۔
برابری پارٹی پاکستان اس تناظر میں عوامی سیاست کے ایک متبادل کے طور پرتمام حکمران اشرافیہ کے سامنے پاکستان کے عام لوگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے سینہ سپر کھڑ ی ہے۔ اس متبادل کی معنویت کا انحصار عوامی مسائل کو انتخابی نعروں سے آگے لے جا کر ایک واضح معاشی و سیاسی پروگرام میں ڈھالناہے۔ اس کے لیے چند بنیادی ترجیحات اہم ہیں؛
ترقی پسند ٹیکس نظام
دولت، بڑی آمدنیوں، جائیداد اور معاشی مراعات پر مؤثر اور منصفانہ ٹیکس عائد کیا جائے، جبکہ غریب اور کم آمدنی والے گھرانوں پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ ختم کیا جائے۔
محنت کشوں کے حقوق
اجرت، روزگار کے تحفظ، یونین سازی، محفوظ کام کے ماحول اور اجتماعی سودے بازی کو یقینی بنایا جائے۔ عوامی خدمات کی ضمانت تعلیم، صحت، رہائش، صاف پانی اور توانائی تک قابلِ استطاعت رسائی کو بنیادی سماجی ترجیح بنایا جائے۔
زرعی اور معاشی انصاف
چھو ٹے کسانوں اور زرعی مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے، زمین اور پیداواری وسائل میں موجود غیر مساوی طاقت کا جائزہ لیا جائے، اور اجارہ دارانہ منڈیوں کو مؤثر عوامی نگرانی میں لایا جائے۔
جمہوری احتساب
سیاسی جماعتوں کی مالی معاونت، حکومتی اخراجات اور ریاستی فیصلوں میں شفافیت اور عوامی نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔
عوامی شرکت
مزدوروں، کسانوں، خواتین، نوجوانوں اور مقامی برادریوں کو پالیسی سازی میں حقیقی نمائندگی اور فیصلہ کن کردار دیا جائے۔ یہ اقدامات بذاتِ خود کسی مکمل سماجی انقلاب کی ضمانت نہیں، لیکن یہ اس جدوجہد کے اہم اجزا بن سکتے ہیں جس کا مقصد معیشت اور ریاست کو چند طاقتور طبقات کے مفادات سے آزاد کرکے وسیع تر سماجی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہو۔
برابری پارٹی عوام کی محرومیوں کو محض سیاسی حمایت میں تبدیل نہیں کرے گی، بلکہ عوام کو منظم کرکے ایسا اجتماعی سیاسی کردار پیدا کرے گی جو معاشی طاقت کے موجودہ توازن کو چیلنج کر سکے۔عوامی اقتدار کا مطلب محض حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ بنیادی سماجی تبدیلی کا سوال اس لیے اہم ہے کہ سرمایہ دارانہ سماج میں معاشی طاقت اور سیاسی طاقت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ جب پیداوار، سرمایہ کاری اور وسائل کی تقسیم کے اہم فیصلے محدود نجی مفادات کے زیرِ اثر ہوں، تو صرف حکومت بدلنے سے ان تعلقات میں بنیادی تبدیلی ممکن نہیں ہوتی۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ انتخابات، پارلیمان یا جمہوری اصلاحات بے معنی ہیں۔ ان کے ذریعے عوام اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں، ریاستی پالیسیوں پر دباؤ ڈال سکتے ہیں اور معاشی نا انصافی کو کم کرنے کے لیے اہم اقدامات ممکن بنا سکتے ہیں۔ لیکن ان کامیابیوں کو پائیدار بنانے کے لیے عوام کی منظم اجتماعی قوت، مضبوط مزدور و کسان تحریکوں، جمہوری اداروں اور مستقل سیاسی شرکت کی ضرورت ہوتی ہے۔
برابری پارٹی محنت کشوں اور محروم طبقات کے درمیان ایسا سیاسی رشتہ قائم کررہی ہے جو صرف انتخابات کے موسم میں سرگرم نہ ہو بلکہ عوام کے روزمرہ مسائل، مقامی جدوجہدوں اور اجتماعی تنظیم سازی سے جڑا ہوا ہو۔ عوام کو محض ایک نعرے کے سامعین یا ووٹروں کے مجموعے کے طور پر نہیں، بلکہ تبدیلی کے فعال سیاسی کردار کے طور پر سامنے لانا ہی برابری پارٹی کا بنیادی مقصد ہے۔کیونکہ عوام کی حکومت کا دعویٰ اس وقت تک ادھورا ہے جب تک عوام کے پاس اپنی اجتماعی قوت کو منظم کرنے، حکمرانوں کا احتساب کرنے اور معاشی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کے مؤثر ذرائع موجود نہ ہوں۔
مہنگائی کے خلاف جدوجہد، برابری کے لیے جدوجہد!
جواد احمد کا یہ گیت پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ایک اہم سوال اٹھاتا ہے، جب مختلف جماعتوں کی حکومتوں کے باوجود مہنگائی، غربت اور بے روزگاری عوام کی زندگیوں کو مسلسل متاثر کرتی رہیں، تو کیا مسئلے کا حل صرف ایک جماعت کو ہٹا کر دوسری جماعت کو اقتدار میں لانا ہے، یا ہمیں سیاست اور معیشت کے بنیادی تعلق پر بھی سوال اٹھانا چاہیے؟اس سوال کا جواب واضح ہے؛ عوامی مشکلات کا پائیدار حل ان معاشی اور سیاسی رشتوں کو تبدیل کیے بغیر ممکن نہیں جو دولت، وسائل اور فیصلہ سازی کی طاقت کو غیر مساوی انداز میں تقسیم کرتے ہیں۔ اس تبدیلی کے لیے محنت کش عوام کی تنظیم، طبقاتی شعور، جمہوری جدوجہد اور معاشی انصاف پر مبنی واضح پروگرام برابری پارٹی کی اولین ترجیحات ہیں۔
برابری پارٹی پاکستان عوام کو محض حکمرانوں کے انتخاب تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں اجتماعی اقتدار کی جدوجہد میں شریک کرنے کی عملی جدوجہد ہے۔ اس کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ضروری پارٹی محض نعروں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ قابلِ عمل پالیسیوں، جمہوری تنظیم سازی، عوامی جواب دہی اور محنت کش طبقات کے ساتھ مستقل سیاسی وابستگی میں ڈھال رہی ہے۔ آخرکار، مہنگائی کے خلاف جدوجہد صرف سستی اشیا کے حصول کی جدوجہد نہیں، یہ اس سوال سے بھی جڑی ہے کہ سماج کی دولت کون پیدا کرتا ہے، اس دولت سے فائدہ کون اٹھاتا ہے، اور فیصلے کرنے کا حق کس کے پاس ہے۔اگر دولت عوام کی محنت سے پیدا ہوتی ہے، تو اس دولت کی تقسیم اور اس کے استعمال پر عوام کا جمہوری اختیار کیوں نہ ہو؟یہی وہ سوال ہے جو مہنگائی کے خلاف ایک سیاسی گیت کو طبقاتی شعور کی بحث میں تبدیل کرتا ہے۔ اور یہی وہ سوال ہے جس کے گرد برابری پارٹی پاکستان اپنے عوامی متبادل کو تشکیل دے رہی ہے۔ اور ایک ایسا سماج جہاں ریاست کی کامیابی کا پیمانہ چند خاندانوں کی دولت یا سرمایہ دارانہ منافع نہیں، بلکہ عام انسان کی باعزت اور خوشحال زندگی، معاشی تحفظ، سماجی برابری اور اجتماعی آزادی ہو۔
—♦—
طارق شہزاد ڈیلی للکار کے ایڈیٹر ہیں، آپ برابری پارٹی پاکستان کے بانی ارکان میں سے ہیں اورگزشتہ 28 سالوں سے بائیں بازو کی تحریک کے ساتھ وابستہ ہیں۔ آپ بائیں بازو کے متحرک نظریاتی لوگوں میں سے ہیں اور ملکی و بین الاقوامی سیاسی، سماجی ، معاشی مسائل پر لکھتے رہتے ہیں۔
جواب دیں جواب منسوخ کریں
پاکستان میں مہنگائی محض قیمتوں میں اضافے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسے معاشی اور سیاسی نظام کا اظہار ہے جس میں دولت پیدا کرنے والے عوام اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ دولت، وسائل اور فیصلہ سازی کی طاقت ایک محدود مراعات یافتہ طبقے کے ہاتھوں میں مرتکز ہے۔ مزدور اپنی محنت سے ملک کی معیشت چلاتا ہے، کسان زمین سے خوراک اگاتا ہے، محنت کش عورت گھر اور سماج کی بقا ءکے لیے اپنا وقت صرف کرتی ہے، اور نوجوان اپنے مستقبل کی تلاش میں دربدر ٹھوکریں کھاتےپھرتے ہیں، لیکن ان سب کی اجتماعی محنت سے پیدا ہونے والی دولت کا بڑا حصہ ان طبقات تک نہیں پہنچتا جو اسے پیدا کرتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے سے سمجھے بغیر مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کے مسئلے کی حقیقی نوعیت تک نہیں پہنچا جاسکتا۔
جواد احمد کے گیت میں اٹھایا گیا سوال، ’’کس نے کی ہے یہ مہنگائی؟ ۔۔ن لیگ، پی پی، پی ٹی آئی‘‘، اسی تضاد کو سیاسی سطح پر سامنے لاتا ہے۔ یہ محض تین سیاسی جماعتوں یا چند حکمران خاندانوں پر تنقید نہیں، بلکہ اس سیاسی معیشت پر سوال ہے جس میں اقتدار کی تبدیلی کے باوجود عام آدمی کی زندگی میں بنیادی تبدیلی نہیں آتی بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مزید مشکلات و مصائب ہیں کہ بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔ مسلم لیگ ۔ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی اختلافات، انتخابی مقابلے اور اقتدار کی کشمکش اپنی جگہ، لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ ان کی معاشی پالیسیوں سے کس طبقے کے مفادات پورے ہوتے ہیں، معاشی بحران کا بوجھ کون اُٹھاتا ہے، اور ریاست کے وسائل و اختیارات پر فیصلہ کن اثر کس کا ہے؟
مہنگائی محض معاشی بحران نہیں، طبقاتی مسئلہ ہے!
ترقی پسند فکرہمیں سکھاتی ہے کہ معاشی مسائل کو سماجی رشتوں اور طبقاتی طاقت کے تناظر میں دیکھا جائے۔ مہنگائی کی ہر صورت کی ایک ہی وجہ نہیں ہوتی، روپے کی قدر میں کمی، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ، درآمدات پر انحصار، منڈیوں میں اجارہ دارانہ طاقت، مالیاتی پالیسیوں اور عالمی معاشی حالات سمیت متعدد عوامل قیمتوں کو متاثر کرتے ہیں۔ لیکن ان عوامل کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی جڑا ہواہے کہ ان معاشی فیصلوں کی قیمت کون ادا کرتا ہے؟ جب بجلی، گیس، آٹا، دالیں، ادویات اور رہائش عام لوگوں کی قوتِ خرید سے باہر ہونے لگیں، تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ معیشت مشکلات کا شکار ہے ، بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ سماج میں موجود وسائل اور معاشی بوجھ کی تقسیم غیر
مساوی ہے۔ ایک طرف محدود آمدنی پر گزارا کرنے والے خاندان اپنی خوراک، علاج اور تعلیم میں کٹوتیاں کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف بڑے کاروباری مفادات، دولت مند طبقات اور طاقتور اشرافیائی معاشی گروہ ریاستی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔یہیں سے مہنگائی ایک طبقاتی مسئلہ بن جاتی ہے۔ اس کا حل صرف قیمتوں پر عارضی قابو پانے یا حکومت تبدیل کرنے میں نہیں، بلکہ ان معاشی اور سیاسی ڈھانچوں کو تبدیل کرنے میں ہے جو بحران کا بوجھ بار بار محنت کش اور مڈل کلاس عوام پر منتقل کرتے ہیں۔
شریف، بھٹو زرداری اور عمران شخصیات سے آگے نظام کا سوال!
گیت میں شریف، بھٹو زرداری اور عمران کو ’’مہنگائی کے تین نشان‘‘ قرار دینا ایک سیاسی نعرے سے بڑھ کر حکمران اشرافیہ کی استحصالی سیاست کے تسلسل پر تنقید ہے۔ اس کا مقصد مختلف حکومتوں کی معاشی پالیسیوں کو یکساں قرار دینا نہیں، بلکہ یہ پوچھنا ہے کہ سیاسی تبدیلیوں کے باوجود معاشی طاقت کی بنیادی تقسیم کیوں برقرار رہتی ہے۔ ایسے میں حکمران جماعتوں کا جائزہ ان کے نعروں، انتخابی وعدوں یا عوامی مقبولیت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ان کے طبقاتی کردار اور عملی پالیسیوں کی بنیاد پر لینا ضروری ہوجاتاہے۔ کون ٹیکس کا بوجھ اٹھاتا ہے؟ کون سرکاری وسائل سے فائدہ حاصل کرتا ہے؟ محنت کی پیداوار میں سے اُجرت اور منافع کا تناسب کیا ہے؟ زمین، صنعت، مالیاتی سرمائے اور قدرتی وسائل پر اختیار کس کے پاس ہے؟ اور معاشی بحران کے وقت ریاست کس طبقے کے تحفظ کو ترجیح دیتی ہے؟
یہ سوالات ہمیں سیاست کو محض شخصیات کے مقابلے سے نکال کر طبقاتی مفادات کے تجزیے تک لے جاتے ہیں۔تاہم، کسی بھی جماعت یا حکومت کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت اس کی مخصوص پالیسیوں، اقدامات اور نتائج کا ٹھوس جائزہ ازحد ضروری ہے۔ تمام حکومتیں لازماً ہر معاملے میں ایک جیسی نہیں ہوتیں، ان میں بعض کے درمیان معمولی اور ثانوی فرق ہو سکتے ہیں ۔ ترقی پسند تنقید کا مقصد فرق کو مٹانا نہیں، بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ مختلف سیاسی راستے کن معاشی حدود کے اندر کام کرتے ہیں اور کن طبقات کے مفادات کو تقویت دیتے ہیں۔ گیت کا اصل سوال اسی لیے اہم ہے؛ اگر چہرے بدلتے رہیں لیکن عوام کا استحصال اور معاشی بے اختیاری برقرار رہے تو کیا محض اقتدار کی تبدیلی کو حقیقی سماجی تبدیلی کہا جا سکتا ہے؟
اشرافیہ کی سیاست اور جمہوریت کی طبقاتی حدود!
پاکستان میں جمہوریت کا ایک بنیادی تضاد یہ ہے کہ عوام کو انتخابات کے ذریعے حکمران منتخب کرنے کا حق تو حاصل ہے، لیکن معاشی زندگی کے اہم فیصلوں پر ان کا اختیار بالکل بھی نہیں ہے۔ مزدور اپنی اجرت کا فیصلہ نہیں کرتا، کسان اکثر اپنی پیداوار کی قیمت اور منڈی کی شرائط پر مکمل اختیار نہیں رکھتا، اور عام شہری ان معاشی پالیسیوں کی تشکیل میں براہِ راست شریک نہیں ہوتا جو اس کی زندگی کا تعین کرتی ہیں۔اس صورتِ حال میں سیاسی جمہوریت موجود ہونے کے باوجود معاشی جمہوریت نامکمل رہتی ہے۔ جب سیاسی جماعتوں کی قیادت، انتخابی مہمات اور حکومتی ترجیحات دولت مند طبقات کے مفا دات کے اثر میں آجائیں، تو عوام کی سیاسی شرکت اکثر ووٹ ڈالنے تک محدود ہو جاتی ہے۔ شہری ہر چند سال بعد اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں، مگر روزمرہ زندگی میں ان کی بنیادی ضروریات اور معاشی تحفظ کے سوالات حل نہیں ہوتے۔
گیت میں ’’ارب پتی حکمران‘‘ اور ’’اشرافیہ کے غلام‘‘ جیسی ترکیبیں اسی سیاسی تضاد کو بے نقابکرتی ہیں۔ ان کا مفہوم یہ ہے کہ حکمرانوں کی سیاسی خودمختاری کو ان کے معاشی مفادات اور طبقاتی وابستگیوں سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔لیکن مسئلہ صرف یہ نہیں کہ حکمران امیر ہیں۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کیا ریاستی طاقت اور معاشی پالیسی عوام کی ضروریات کے تابع ہیں، یا عوام کو ایک ایسے نظام کے تابع رکھا جاتا ہے جس میں منافع، سرمایہ اور مراعات کو انسانی ضروریات پر فوقیت حاصل ہے؟
https://www.youtube.com/watch?v=MRtXyPNBGj8&list=RDMRtXyPNBGj8&start_radio=1
برابری پارٹی : عوام کی سیاست کا متبادل!
اس بحث میں برابری پارٹی پاکستان کی اہمیت اس دعوے میں مضمر ہے کہ سیاست کو مراعات یافتہ طبقات کی باہمی مسابقت سے نکال کر محنت کش عوام کی اجتماعی قوت سے جوڑا جائے۔ اگر روایتی حکمران سیاست کا بنیادی محور اقتدار کا حصول ہے، تو عوام دوست سیاست کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اقتدار اور وسائل کے استعمال کو عام لوگوں کی ضروریات، معاشی تحفظ اور سماجی برابری کے تابع بنایا جائے۔ جواد احمد کے گیت میں یہ مصرعے ایک متبادل سیاسی تصور پیش کرتے ہیں؛ ’’منگائی غربت تبھی ہو گی ختم،جب عام لوگ بنیں گے حکمران۔‘‘ اس کا مطلب صرف یہی نہیں کہ غریب پس منظر رکھنے والے افراد اسمبلیوں میں پہنچ جائیں۔ اگر وہ اقتدار میں پہنچ کر انہی معاشی مفادات اور ریاستی ترجیحات کے تابع ہو جائیں جن پر پہلے سے مراعات یافتہ طبقات کا غلبہ ہے، تو حکمرانوں کی سماجی شناخت بدلنے کے باوجود نظام کی بنیادی ساخت برقرار رہے گی۔ عوامی اقتدار کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ مزدور، کسان، کم آمدنی والے ملازمین، بے روزگار نوجوان اور دوسرے محروم طبقات نہ صرف انتخابی عمل میں حصہ لیں بلکہ پالیسی سازی، بجٹ کی ترجیحات، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور معاشی فیصلوں پر بھی مؤثر اجتماعی اختیار حاصل کریں۔
برابری پارٹی پاکستان اس تناظر میں عوامی سیاست کے ایک متبادل کے طور پرتمام حکمران اشرافیہ کے سامنے پاکستان کے عام لوگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے سینہ سپر کھڑ ی ہے۔ اس متبادل کی معنویت کا انحصار عوامی مسائل کو انتخابی نعروں سے آگے لے جا کر ایک واضح معاشی و سیاسی پروگرام میں ڈھالناہے۔ اس کے لیے چند بنیادی ترجیحات اہم ہیں؛
ترقی پسند ٹیکس نظام
دولت، بڑی آمدنیوں، جائیداد اور معاشی مراعات پر مؤثر اور منصفانہ ٹیکس عائد کیا جائے، جبکہ غریب اور کم آمدنی والے گھرانوں پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ ختم کیا جائے۔
محنت کشوں کے حقوق
اجرت، روزگار کے تحفظ، یونین سازی، محفوظ کام کے ماحول اور اجتماعی سودے بازی کو یقینی بنایا جائے۔ عوامی خدمات کی ضمانت تعلیم، صحت، رہائش، صاف پانی اور توانائی تک قابلِ استطاعت رسائی کو بنیادی سماجی ترجیح بنایا جائے۔
زرعی اور معاشی انصاف
چھو ٹے کسانوں اور زرعی مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے، زمین اور پیداواری وسائل میں موجود غیر مساوی طاقت کا جائزہ لیا جائے، اور اجارہ دارانہ منڈیوں کو مؤثر عوامی نگرانی میں لایا جائے۔
جمہوری احتساب
سیاسی جماعتوں کی مالی معاونت، حکومتی اخراجات اور ریاستی فیصلوں میں شفافیت اور عوامی نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔
عوامی شرکت
مزدوروں، کسانوں، خواتین، نوجوانوں اور مقامی برادریوں کو پالیسی سازی میں حقیقی نمائندگی اور فیصلہ کن کردار دیا جائے۔ یہ اقدامات بذاتِ خود کسی مکمل سماجی انقلاب کی ضمانت نہیں، لیکن یہ اس جدوجہد کے اہم اجزا بن سکتے ہیں جس کا مقصد معیشت اور ریاست کو چند طاقتور طبقات کے مفادات سے آزاد کرکے وسیع تر سماجی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہو۔
برابری پارٹی عوام کی محرومیوں کو محض سیاسی حمایت میں تبدیل نہیں کرے گی، بلکہ عوام کو منظم کرکے ایسا اجتماعی سیاسی کردار پیدا کرے گی جو معاشی طاقت کے موجودہ توازن کو چیلنج کر سکے۔عوامی اقتدار کا مطلب محض حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ بنیادی سماجی تبدیلی کا سوال اس لیے اہم ہے کہ سرمایہ دارانہ سماج میں معاشی طاقت اور سیاسی طاقت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ جب پیداوار، سرمایہ کاری اور وسائل کی تقسیم کے اہم فیصلے محدود نجی مفادات کے زیرِ اثر ہوں، تو صرف حکومت بدلنے سے ان تعلقات میں بنیادی تبدیلی ممکن نہیں ہوتی۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ انتخابات، پارلیمان یا جمہوری اصلاحات بے معنی ہیں۔ ان کے ذریعے عوام اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں، ریاستی پالیسیوں پر دباؤ ڈال سکتے ہیں اور معاشی نا انصافی کو کم کرنے کے لیے اہم اقدامات ممکن بنا سکتے ہیں۔ لیکن ان کامیابیوں کو پائیدار بنانے کے لیے عوام کی منظم اجتماعی قوت، مضبوط مزدور و کسان تحریکوں، جمہوری اداروں اور مستقل سیاسی شرکت کی ضرورت ہوتی ہے۔
برابری پارٹی محنت کشوں اور محروم طبقات کے درمیان ایسا سیاسی رشتہ قائم کررہی ہے جو صرف انتخابات کے موسم میں سرگرم نہ ہو بلکہ عوام کے روزمرہ مسائل، مقامی جدوجہدوں اور اجتماعی تنظیم سازی سے جڑا ہوا ہو۔ عوام کو محض ایک نعرے کے سامعین یا ووٹروں کے مجموعے کے طور پر نہیں، بلکہ تبدیلی کے فعال سیاسی کردار کے طور پر سامنے لانا ہی برابری پارٹی کا بنیادی مقصد ہے۔کیونکہ عوام کی حکومت کا دعویٰ اس وقت تک ادھورا ہے جب تک عوام کے پاس اپنی اجتماعی قوت کو منظم کرنے، حکمرانوں کا احتساب کرنے اور معاشی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کے مؤثر ذرائع موجود نہ ہوں۔
مہنگائی کے خلاف جدوجہد، برابری کے لیے جدوجہد!
جواد احمد کا یہ گیت پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ایک اہم سوال اٹھاتا ہے، جب مختلف جماعتوں کی حکومتوں کے باوجود مہنگائی، غربت اور بے روزگاری عوام کی زندگیوں کو مسلسل متاثر کرتی رہیں، تو کیا مسئلے کا حل صرف ایک جماعت کو ہٹا کر دوسری جماعت کو اقتدار میں لانا ہے، یا ہمیں سیاست اور معیشت کے بنیادی تعلق پر بھی سوال اٹھانا چاہیے؟اس سوال کا جواب واضح ہے؛ عوامی مشکلات کا پائیدار حل ان معاشی اور سیاسی رشتوں کو تبدیل کیے بغیر ممکن نہیں جو دولت، وسائل اور فیصلہ سازی کی طاقت کو غیر مساوی انداز میں تقسیم کرتے ہیں۔ اس تبدیلی کے لیے محنت کش عوام کی تنظیم، طبقاتی شعور، جمہوری جدوجہد اور معاشی انصاف پر مبنی واضح پروگرام برابری پارٹی کی اولین ترجیحات ہیں۔
برابری پارٹی پاکستان عوام کو محض حکمرانوں کے انتخاب تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں اجتماعی اقتدار کی جدوجہد میں شریک کرنے کی عملی جدوجہد ہے۔ اس کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ضروری پارٹی محض نعروں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ قابلِ عمل پالیسیوں، جمہوری تنظیم سازی، عوامی جواب دہی اور محنت کش طبقات کے ساتھ مستقل سیاسی وابستگی میں ڈھال رہی ہے۔ آخرکار، مہنگائی کے خلاف جدوجہد صرف سستی اشیا کے حصول کی جدوجہد نہیں، یہ اس سوال سے بھی جڑی ہے کہ سماج کی دولت کون پیدا کرتا ہے، اس دولت سے فائدہ کون اٹھاتا ہے، اور فیصلے کرنے کا حق کس کے پاس ہے۔اگر دولت عوام کی محنت سے پیدا ہوتی ہے، تو اس دولت کی تقسیم اور اس کے استعمال پر عوام کا جمہوری اختیار کیوں نہ ہو؟یہی وہ سوال ہے جو مہنگائی کے خلاف ایک سیاسی گیت کو طبقاتی شعور کی بحث میں تبدیل کرتا ہے۔ اور یہی وہ سوال ہے جس کے گرد برابری پارٹی پاکستان اپنے عوامی متبادل کو تشکیل دے رہی ہے۔ اور ایک ایسا سماج جہاں ریاست کی کامیابی کا پیمانہ چند خاندانوں کی دولت یا سرمایہ دارانہ منافع نہیں، بلکہ عام انسان کی باعزت اور خوشحال زندگی، معاشی تحفظ، سماجی برابری اور اجتماعی آزادی ہو۔
—♦—
طارق شہزاد ڈیلی للکار کے ایڈیٹر ہیں، آپ برابری پارٹی پاکستان کے بانی ارکان میں سے ہیں اورگزشتہ 28 سالوں سے بائیں بازو کی تحریک کے ساتھ وابستہ ہیں۔ آپ بائیں بازو کے متحرک نظریاتی لوگوں میں سے ہیں اور ملکی و بین الاقوامی سیاسی، سماجی ، معاشی مسائل پر لکھتے رہتے ہیں۔















