• Latest

سماجی تبدیلیاں تاریخ کا جبر ہوتی ہیں! (قسط 2) – تحریر: رانا اعظم

جنوری 18, 2024

استعماری میڈیا کا محکوم قوموں سے سلوک

اپریل 6, 2025

سندھ اور صوفی ازم ؟ – تحریر: بخشل تھلہو

اکتوبر 13, 2024

پاکستانی کشمیر میں مذہبی انتہا پسندی کی بڑھتی ہوئی لہر۔۔۔خدشات و خطرات!- تحریر: ڈاکٹر توقیر گیلانی

اکتوبر 5, 2024

صیہونیت کے خلاف توانا آواز حسن نصر اللہ فضائی حملے میں شہید!

ستمبر 28, 2024

کیمونسٹ راہنما سیتارام یچوری بھی چل بسے! – تحریر: پرویزفتح

ستمبر 27, 2024
">
ADVERTISEMENT
  • ہمارے بارے میں
  • للکار پر اشتہار دیں
  • ادارتی پالیسی
  • رابطہ کریں
منگل, ستمبر 16, 2025
Daily Lalkaar
  • صفحۂ اول
  • تازہ ترین
    • خبریں
  • پاکستان
    • سماجی مسائل
    • سیاسی معیشت
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • بین الاقوامی
  • فنون و ادب
  • ماحولیات
  • مضامین
  • ویڈیوز
  • اداریہ
  • صفحۂ اول
  • تازہ ترین
    • خبریں
  • پاکستان
    • سماجی مسائل
    • سیاسی معیشت
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • بین الاقوامی
  • فنون و ادب
  • ماحولیات
  • مضامین
  • ویڈیوز
  • اداریہ
No Result
View All Result
Daily Lalkaar
No Result
View All Result
">
Home home مضامین

سماجی تبدیلیاں تاریخ کا جبر ہوتی ہیں! (قسط 2) – تحریر: رانا اعظم

تیسری دنیا کے پسماندہ ممالک کا سرمایہ دارانہ صنعتی معاشروں میں تبدیل ہونا اب تقریبا ناممکن ہو چکا ہے ۔ حتی کہ انڈیا بھی پسماندہ ممالک کی فہرست سے نہیں نکل پایا ۔ پاکستان اور دیگر پسماندہ ممالک میں یہ سارا بوجھ ترقی پسندوں کے کمزور کندھوں پر تاریخ نے ڈال دیا ہے ۔

للکار نیوز by للکار نیوز
جنوری 18, 2024
in مضامین
A A
0

” سماجی تبدیلیاں تاریخ  کا جبر ہوتی ہیں“  کے عنوان سے لکھے گئے آرٹیکل مورخہ 8 جنوری 2024ء پر ہمارے ایک دوست/ نظریاتی ساتھی صیاد رفیق صاحب (جو کہ پارٹی میں تو نہیں ہیں ) نے خاصے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ جن پر مزید لکھنا ضروری ہو گیا ہے ۔

سوالات کچھ اس طرح ہیں ۔
1۔ بلاشبہ کیمونسٹ سماجی تبدیلی میں بطور catalyst کام کرتے ہیں ، مگر یہ تحقیق بھی لازم ہے ، کہ کیا کیمونسٹ اکیلے بطور catalyst کام کرتے ہیں یا دیگر elements بھی یہ فریضہ سر انجام دے رہے ہیں ۔ اگر جواب ہاں میں ہے تو ان عناصر کی تفصیل اور ان کے ساتھ کمیونسٹوں کے تعلق کی نوعیت ؟

2۔ دھوپ کب سے کب تک رہی ؟ بہار کی دھوپ کا دورانیہ کیا تھا اور گرما کی دھوپ کا دورانیہ ؟ چھاؤں میں کب سے ہیں ۔؟ کیا اب حرارت کے سب سر چشمے سوکھ گئے یا کچھ باقی ہیں ۔ تفصیل طلب

3۔ سماجی تبدیلیاں ہماری خواہشات پر نہیں بلکہ مادے اور سماج کی حرکت کے دوران پیدا ہوتی ہیں۔ یہ ضرورت ہے جو ایجاد کو پیدا کرتی ہے ۔ مستقبل کے بیج حال کے پھل میں پیدا ہوتے ہیں ۔تاریخی لزوم ناگزیر ہوتا ہے ۔تاریخی لزوم سے رخنے بھی ٹکراتے ہیں ۔ مگر فتح یابی تاریخی لزوم کی ہوتی ہے ۔

4 ۔ عوام دانشور نہیں ہوتے، اس لیے عوام سماجی سائنس پڑھ کر تحریکوں کا حصہ نہیں بنتے ۔ دانشور طبقہ بھی اپنی دانش کو اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کرنے سے بلکل بھی نہیں ہچکچاتا ۔ مارکسزم اور جدلیات کے علم پر عبور حاصل کرنے کے بعد یہ بلکل بھی ضروری نہیں کہ اس علم کو کوئی دانشور مارکسی سیاسی جماعت کے اندر ہی استعمال کرے ۔ ( بائیں بازو کی پارٹیوں کے اندر بھی منفی کردار ادا کرتا رہتا ہے ۔راقم)۔  بورژوا سیاسی جماعتوں، کاروباری اور دیگر سماجی اداروں، تنظیموں کے لیے بھی علمائے مارکسزم و جدلیات کی خدمات کا دستیاب رہنا عام مشاہدے میں آیا ہے ۔
تاریخی لزوم عوام اور دانشوروں کو مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچتا ہے ۔

ہونی ہو کر رہتی ہے ۔

یہ تھی ہمارے دوست کی تحریر۔

سوالات کی بجائے تحریر کا لفظ ہم نے شعوری طور پر لکھا ہے ۔ اس لیے کہ انہوں نے صرف سوالات ہی نہیں اٹھائے، بلکہ ہم سے بہتر ہمارے آرٹیکل کی تفسیر بیان کر دی ہے ۔ سوالات تو اس میں نمبر 1 اور 2 ہیں

نمبر 1 ۔  کا پہلا واضع جواب ہاں میں ہے ۔ کمیونسٹوں کے علاوہ دیگر عناصر بھی catalyst کا رول ادا کرتے ہیں ۔ ان کی نشاندہی تو کی جا سکتی ہے۔ مکمل لسٹ مرتب کرنا مشکل ٹاسک ہے ۔ بورثوا صنعتی سماج اور ادارے خود سے ایک catalyst ہوتے ہیں۔ بورثوا سیاسی جماعتیں ، انتظامیہ، عدلیہ (عدالتی فیصلے ) ، میڈیا، تھیڑ، موسیقی، مصوری کیٹالسٹ کا کردار ادا کرتے ہیں ۔ حتی کہ تیسری دنیا سے اب سے کچھ دن پہلے کے انڈیا کی مثال ہم اٹھا سکتے ہیں۔ زرعی اصلاحات ، جاگیرداری کا خاتمہ، غیر جانبدار خارجہ پالیسی، آئینی سازی ، سیکولرازم، بورثوا جمہوریت , مقابلتا عورت کی empowerment وغیرہ وغیرہ ۔

تاریخی طور پر یہ رول ہے ہی بورژوا سماج  کا  ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین کرنے کی ہے ،کہ تیسری دنیا کے پسماندہ ممالک کا سرمایہ دارانہ صنعتی معاشروں میں تبدیل ہونا اب تقریبا ناممکن ہو چکا ہے ۔ حتی کہ انڈیا بھی پسماندہ ممالک کی فہرست سے نہیں نکل پایا ۔

پاکستان اور دیگر پسماندہ ممالک میں یہ سارا بوجھ ترقی پسندوں کے کمزور کندھوں پر تاریخ نے ڈال دیا ہے ۔ یہ تاریخی جبر نوآبادیاتی نظام کا بھی ہے۔ اوپر سے ہمارے ہاں کا آوارہ گرد ترقی پسند ( لمپن لیفٹ ) اور لبرل ہمیں ہر وقت کٹہرے میں کھڑا رکھتا ہے ۔ یہ بھی مان لینا چاہیے کہ ہم بھی غلطیوں سے مبرا نہیں ہیں۔

نمبر 2 ۔    دھوپ، چھاؤں کا سوال۔ سوویت دور چھاؤں کا دور کہا جا سکتا ہے۔ بعد کے وقت کو گرما کی دھوپ کے پلڑے میں ۔ یہ بہت سادہ سی تقسیم ہے ۔ تفصیل میں جانے سے اور الجھاؤ پیدا ہوں گے ۔ یہاں تک حرارت کے سرچشموں کے سوکھ جانے کا سوال ہے ۔ اگر ہم حرارت کو نمو کے معنوں میں لیتے ہیں ۔ لگتا ہے ساتھی نے بھی انہی معنوں میں لکھا ہے ۔ طبقاتی سماج میں سوتے/ سرچشمے کبھی خشک نہیں ہوتے ۔ طبقاتی سماج از خود سے سرچشموں کا Organic source ہوتا ہے ۔ جب تک طبقاتی سماج قائم رہے گا ، طبقاتی کشمکش کے سوتے خشک نہیں ہو سکتے۔ یہی بات ہم اپنے آرٹیکل میں کہہ چکے ہیں ، کہ جدلیات تبدیل ہو سکتی ہے نہ ختم ۔

نمبر 3 اور 4 سے ہم مکمل اتفاق کرتے ہیں ۔ بلکہ انہوں نے ہماری بات کی کمزوریوں کو دور کر دیا ۔ البتہ نمبر 4 میں ایک چھوٹی سی وضاحت دینا چاہتے ہیں ۔ ہم نے عبور حاصل کر لینے کے بعد کی بجائے جڑے رہنا لکھا ہے ۔ ورنہ جڑت کی essence کمزور پڑنے لگتی ہے ۔ جڑے رہنے سے موقعہ پرستی کے امکانات کم ہو سکتے ہیں ۔ ختم تو نہیں ہوتے ۔ استثنائی صورتوں کو مکمل رد نہیں کیا جاسکتا ۔ مجموعی طور پر ہمارے ساتھی کی بات درست ہے ۔

 —♦—

rana
مصنف کے بارے

رانا اعظم کا تعلق عوامی ورکرز پارٹی سے ہے، آپ بائیں بازو کے منجھے ہوئے نظریاتی لوگوں میں سے ہیں اور اکثر سیاسی، سماجی اور فلسفیانہ موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

">
ADVERTISEMENT
Advertisement. Scroll to continue reading.
">

” سماجی تبدیلیاں تاریخ  کا جبر ہوتی ہیں“  کے عنوان سے لکھے گئے آرٹیکل مورخہ 8 جنوری 2024ء پر ہمارے ایک دوست/ نظریاتی ساتھی صیاد رفیق صاحب (جو کہ پارٹی میں تو نہیں ہیں ) نے خاصے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ جن پر مزید لکھنا ضروری ہو گیا ہے ۔

سوالات کچھ اس طرح ہیں ۔
1۔ بلاشبہ کیمونسٹ سماجی تبدیلی میں بطور catalyst کام کرتے ہیں ، مگر یہ تحقیق بھی لازم ہے ، کہ کیا کیمونسٹ اکیلے بطور catalyst کام کرتے ہیں یا دیگر elements بھی یہ فریضہ سر انجام دے رہے ہیں ۔ اگر جواب ہاں میں ہے تو ان عناصر کی تفصیل اور ان کے ساتھ کمیونسٹوں کے تعلق کی نوعیت ؟

2۔ دھوپ کب سے کب تک رہی ؟ بہار کی دھوپ کا دورانیہ کیا تھا اور گرما کی دھوپ کا دورانیہ ؟ چھاؤں میں کب سے ہیں ۔؟ کیا اب حرارت کے سب سر چشمے سوکھ گئے یا کچھ باقی ہیں ۔ تفصیل طلب

3۔ سماجی تبدیلیاں ہماری خواہشات پر نہیں بلکہ مادے اور سماج کی حرکت کے دوران پیدا ہوتی ہیں۔ یہ ضرورت ہے جو ایجاد کو پیدا کرتی ہے ۔ مستقبل کے بیج حال کے پھل میں پیدا ہوتے ہیں ۔تاریخی لزوم ناگزیر ہوتا ہے ۔تاریخی لزوم سے رخنے بھی ٹکراتے ہیں ۔ مگر فتح یابی تاریخی لزوم کی ہوتی ہے ۔

4 ۔ عوام دانشور نہیں ہوتے، اس لیے عوام سماجی سائنس پڑھ کر تحریکوں کا حصہ نہیں بنتے ۔ دانشور طبقہ بھی اپنی دانش کو اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کرنے سے بلکل بھی نہیں ہچکچاتا ۔ مارکسزم اور جدلیات کے علم پر عبور حاصل کرنے کے بعد یہ بلکل بھی ضروری نہیں کہ اس علم کو کوئی دانشور مارکسی سیاسی جماعت کے اندر ہی استعمال کرے ۔ ( بائیں بازو کی پارٹیوں کے اندر بھی منفی کردار ادا کرتا رہتا ہے ۔راقم)۔  بورژوا سیاسی جماعتوں، کاروباری اور دیگر سماجی اداروں، تنظیموں کے لیے بھی علمائے مارکسزم و جدلیات کی خدمات کا دستیاب رہنا عام مشاہدے میں آیا ہے ۔
تاریخی لزوم عوام اور دانشوروں کو مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچتا ہے ۔

ہونی ہو کر رہتی ہے ۔

یہ تھی ہمارے دوست کی تحریر۔

سوالات کی بجائے تحریر کا لفظ ہم نے شعوری طور پر لکھا ہے ۔ اس لیے کہ انہوں نے صرف سوالات ہی نہیں اٹھائے، بلکہ ہم سے بہتر ہمارے آرٹیکل کی تفسیر بیان کر دی ہے ۔ سوالات تو اس میں نمبر 1 اور 2 ہیں

نمبر 1 ۔  کا پہلا واضع جواب ہاں میں ہے ۔ کمیونسٹوں کے علاوہ دیگر عناصر بھی catalyst کا رول ادا کرتے ہیں ۔ ان کی نشاندہی تو کی جا سکتی ہے۔ مکمل لسٹ مرتب کرنا مشکل ٹاسک ہے ۔ بورثوا صنعتی سماج اور ادارے خود سے ایک catalyst ہوتے ہیں۔ بورثوا سیاسی جماعتیں ، انتظامیہ، عدلیہ (عدالتی فیصلے ) ، میڈیا، تھیڑ، موسیقی، مصوری کیٹالسٹ کا کردار ادا کرتے ہیں ۔ حتی کہ تیسری دنیا سے اب سے کچھ دن پہلے کے انڈیا کی مثال ہم اٹھا سکتے ہیں۔ زرعی اصلاحات ، جاگیرداری کا خاتمہ، غیر جانبدار خارجہ پالیسی، آئینی سازی ، سیکولرازم، بورثوا جمہوریت , مقابلتا عورت کی empowerment وغیرہ وغیرہ ۔

تاریخی طور پر یہ رول ہے ہی بورژوا سماج  کا  ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین کرنے کی ہے ،کہ تیسری دنیا کے پسماندہ ممالک کا سرمایہ دارانہ صنعتی معاشروں میں تبدیل ہونا اب تقریبا ناممکن ہو چکا ہے ۔ حتی کہ انڈیا بھی پسماندہ ممالک کی فہرست سے نہیں نکل پایا ۔

پاکستان اور دیگر پسماندہ ممالک میں یہ سارا بوجھ ترقی پسندوں کے کمزور کندھوں پر تاریخ نے ڈال دیا ہے ۔ یہ تاریخی جبر نوآبادیاتی نظام کا بھی ہے۔ اوپر سے ہمارے ہاں کا آوارہ گرد ترقی پسند ( لمپن لیفٹ ) اور لبرل ہمیں ہر وقت کٹہرے میں کھڑا رکھتا ہے ۔ یہ بھی مان لینا چاہیے کہ ہم بھی غلطیوں سے مبرا نہیں ہیں۔

نمبر 2 ۔    دھوپ، چھاؤں کا سوال۔ سوویت دور چھاؤں کا دور کہا جا سکتا ہے۔ بعد کے وقت کو گرما کی دھوپ کے پلڑے میں ۔ یہ بہت سادہ سی تقسیم ہے ۔ تفصیل میں جانے سے اور الجھاؤ پیدا ہوں گے ۔ یہاں تک حرارت کے سرچشموں کے سوکھ جانے کا سوال ہے ۔ اگر ہم حرارت کو نمو کے معنوں میں لیتے ہیں ۔ لگتا ہے ساتھی نے بھی انہی معنوں میں لکھا ہے ۔ طبقاتی سماج میں سوتے/ سرچشمے کبھی خشک نہیں ہوتے ۔ طبقاتی سماج از خود سے سرچشموں کا Organic source ہوتا ہے ۔ جب تک طبقاتی سماج قائم رہے گا ، طبقاتی کشمکش کے سوتے خشک نہیں ہو سکتے۔ یہی بات ہم اپنے آرٹیکل میں کہہ چکے ہیں ، کہ جدلیات تبدیل ہو سکتی ہے نہ ختم ۔

نمبر 3 اور 4 سے ہم مکمل اتفاق کرتے ہیں ۔ بلکہ انہوں نے ہماری بات کی کمزوریوں کو دور کر دیا ۔ البتہ نمبر 4 میں ایک چھوٹی سی وضاحت دینا چاہتے ہیں ۔ ہم نے عبور حاصل کر لینے کے بعد کی بجائے جڑے رہنا لکھا ہے ۔ ورنہ جڑت کی essence کمزور پڑنے لگتی ہے ۔ جڑے رہنے سے موقعہ پرستی کے امکانات کم ہو سکتے ہیں ۔ ختم تو نہیں ہوتے ۔ استثنائی صورتوں کو مکمل رد نہیں کیا جاسکتا ۔ مجموعی طور پر ہمارے ساتھی کی بات درست ہے ۔

 —♦—

rana
مصنف کے بارے

رانا اعظم کا تعلق عوامی ورکرز پارٹی سے ہے، آپ بائیں بازو کے منجھے ہوئے نظریاتی لوگوں میں سے ہیں اور اکثر سیاسی، سماجی اور فلسفیانہ موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

">
ADVERTISEMENT
Tags: ChangeDialecticsHistoryMaterialismMovementsRevolutionSocial
">
ADVERTISEMENT
للکار نیوز

للکار نیوز

RelatedPosts

استعماری میڈیا کا محکوم قوموں سے سلوک

by للکار نیوز
اپریل 6, 2025
0
0

اگرچہ بظاہر استعماریت کا خاتمہ گزشتہ صدی میں ہو چکا ہے، لیکن حقیقت میں مغربی طاقتیں اپنی سابقہ نوآبادیات پر...

سندھ اور صوفی ازم ؟ – تحریر: بخشل تھلہو

by للکار نیوز
اکتوبر 13, 2024
0
0

پنجاب سے ہمارے اک سینئر تنظیمی ساتھی لکھ رہے ہیں؛” 1۔ صوفی ازم کے تارکِ دُنیا کے فلسفے کیا کریں...

پاکستانی کشمیر میں مذہبی انتہا پسندی کی بڑھتی ہوئی لہر۔۔۔خدشات و خطرات!- تحریر: ڈاکٹر توقیر گیلانی

by للکار نیوز
اکتوبر 5, 2024
1
0

پاکستانی معاشرہ شدت پسندجتھوں اور فرقہ پرست مُلاؤں کی جنت میں تبدیل ہوچکا ہے۔ بلاسفیمی کے الزامات کا شکار افراد...

کیمونسٹ راہنما سیتارام یچوری بھی چل بسے! – تحریر: پرویزفتح

by للکار نیوز
ستمبر 27, 2024
0
0

پانچ دہائیوں تک ہندوستان کی قومی سیاست میں نمایاں کردار ادا کرنے والے برِصغیر کے نامور مارکسی مفکر، انقلابی تحریکوں...

بلوچ جدوجہد اور بلوچوں کی تاریخی حقیقت؟ – تحریر:ممتاز احمد آرزو

by للکار نیوز
ستمبر 26, 2024
0
0

ہر چند کہ ہم میں سے کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ کسی بھی مظلوم قوم، طبقے یا...

کالے کوئلے کو سفید بنانے والی ”دانائی“ اور ماحولیاتی سوال! – تحریر:بخشل تھلہو

by للکار نیوز
ستمبر 8, 2024
0
0

اس اگست کی دو تاریخ کو نصیر میمن صاحب نے اپنی فیس بک وال پر ایک پوسٹ کی، جس میں...

">
ADVERTISEMENT

Follow Us

Browse by Category

  • home
  • Uncategorized
  • اداریہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • خبریں
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • سماجی مسائل
  • سیاسی معیشت
  • فنون و ادب
  • ماحولیات
  • مضامین
  • ویڈیوز

Recent News

استعماری میڈیا کا محکوم قوموں سے سلوک

اپریل 6, 2025

سندھ اور صوفی ازم ؟ – تحریر: بخشل تھلہو

اکتوبر 13, 2024
  • ہمارے بارے میں
  • للکار پر اشتہار دیں
  • ادارتی پالیسی
  • رابطہ کریں

Daily Lalkaar© 2024

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • ادارتی پالیسی
  • رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
  • للکار پر اشتہار دیں

Daily Lalkaar© 2024

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.