• Latest

اُصول پسندی: معروضی یا موضوعی ؟ – تحریر: رانا اعظم

جنوری 23, 2024

استعماری میڈیا کا محکوم قوموں سے سلوک

اپریل 6, 2025

سندھ اور صوفی ازم ؟ – تحریر: بخشل تھلہو

اکتوبر 13, 2024

پاکستانی کشمیر میں مذہبی انتہا پسندی کی بڑھتی ہوئی لہر۔۔۔خدشات و خطرات!- تحریر: ڈاکٹر توقیر گیلانی

اکتوبر 5, 2024

صیہونیت کے خلاف توانا آواز حسن نصر اللہ فضائی حملے میں شہید!

ستمبر 28, 2024

کیمونسٹ راہنما سیتارام یچوری بھی چل بسے! – تحریر: پرویزفتح

ستمبر 27, 2024
">
ADVERTISEMENT
  • ہمارے بارے میں
  • للکار پر اشتہار دیں
  • ادارتی پالیسی
  • رابطہ کریں
منگل, ستمبر 16, 2025
Daily Lalkaar
  • صفحۂ اول
  • تازہ ترین
    • خبریں
  • پاکستان
    • سماجی مسائل
    • سیاسی معیشت
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • بین الاقوامی
  • فنون و ادب
  • ماحولیات
  • مضامین
  • ویڈیوز
  • اداریہ
  • صفحۂ اول
  • تازہ ترین
    • خبریں
  • پاکستان
    • سماجی مسائل
    • سیاسی معیشت
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • بین الاقوامی
  • فنون و ادب
  • ماحولیات
  • مضامین
  • ویڈیوز
  • اداریہ
No Result
View All Result
Daily Lalkaar
No Result
View All Result
">
Home home مضامین

اُصول پسندی: معروضی یا موضوعی ؟ – تحریر: رانا اعظم

کیا ہم لیفٹ کی سیاست کر رہے ہیں ؟،  اگر جواب ہاں میں ہے تو ہماری سیاست غیر طبقاتی سماج کے قیام کی ہے، جو طبقاتی جدوجہد کے بغیر ناممکن ہے۔ طبقاتی جدوجہد، سامراج دشمنی، اجارہ دار سرمایہ داری کا خاتمہ و دیگر ۔

للکار نیوز by للکار نیوز
جنوری 23, 2024
in مضامین
A A
0

آج کے عنوان کا موضوع ہے، کیا ہماری سیاست کے اُصول کوئی ٹھوس حقیقت رکھتے ہیں، یا صرف ذاتی جذبہ و احساس، پسند ناپسند یا man to man کی بنیاد پر تبدیل ہوتے رہتے ہیں ؟۔ ہم نے سیاست کا لفظ لکھ کر اپنی گفتگو کا حدود اربعہ مقرر کر دیا ہے۔

ہماری گفتگو بائیں بازو کی سیاست کے اُصولوں تک محدود رہے گی۔ ساتھ ہی ہم اُصول کے معنی بھی بیان کرتے جائیں، حالانکہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض الفاظ، اصطلاحات اور ان کے معنی اتنے مستعمل ہوتے ہیں۔ ان کی تعریف و تشریح مزید اُلجھاؤ پیدا کر دیتی ہے۔ بھر بھی کچھ دوست اور کچھ نہیں ملتا تو اس قسم کے غیر ضروری سوالات اُٹھا دیتے ہی۔ جیسا کہ گزشتہ ایک مضمون بعنوان ”   ہم یاسیت کی عیاشی کے متحمل نہیں ہو سکتے!“ پر یاسیت کی تعریف کے نہ ہونے کا اُٹھا دیا۔ ورنہ مایوسی کی مزید کیا تعریف ؟ ۔ جب کہ گفتگو کا موضوع بھی واضع ہو۔ سوائے مزید ابہام پیدا کرنے کے۔

ہم اُصول کو کسی بھی نظام، وقوعہ اور مظہر کا بنیادی منطقی لیڈنگ آئیڈیا، طور طریق، طرزِ عمل کے معنی میں لے رہے ہیں۔

جیسا کہ عرض کر چکے ہیں کہ ہم پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست کے اندر رہ کر گفتگو کرنے کی کوشش کریں گے۔ ممکن ہے دورانِ مکالمہ کہیں پارٹی کا حوالہ آ جائے۔ تو ہم اپنے ذمہ لے لیں گے۔ ہمیں کسی دوسری پارٹی پر بات کرنے کا حق نہیں ہے۔ ورنہ تو سب ایک جیسی صورتحال سے دوچار ہیں۔ دوسرے دوست جانیں ان کا کام جانے۔ ہماری بحث بہت بنیادی ہے۔

کیا ہم لیفٹ کی سیاست کر رہے ہیں ؟،  اگر جواب ہاں میں ہے تو ہماری سیاست غیر طبقاتی سماج کے قیام کی ہے ، جو طبقاتی جدوجہد کے بغیر ناممکن ہے۔ طبقاتی جدوجہد، سامراج دشمنی، اجارہ دار سرمایہ داری کا خاتمہ و دیگر۔

ہر ملک/سماج کے اپنے مخصوص تضادات بھی ہوتے ہیں ، جیسے ہمارے ہاں پاکستان ایک کثیرالقومی نیم سرمایہ دارانہ ریاست ہونے کی بنا پر قومی سوال، نیم قبائلی، نیم جاگیردارانہ کی بنیاد پر خواتین کی سوشیواکنامک برابری ، سیکولر ازم ، چین ، انڈیا، ایران، افغانستان اور خطے کے دیگر پڑوسی ممالک سے دوستی، تجارت کے سوالات ہماری سیاست کے salient features ہیں۔ ہاں اور بھی بہت سے تضادات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ جن سے انکار ممکن نہ ہو۔

اب ہم جب ان کو سیاسی دستاویز میں لکھنے پر اتفاق کر لیتے ہیں۔ تب سٹریٹجی اور لائحہ عمل کا مرحلہ آتا ہے ۔ ہم پھر اپنی اپنی ڈگڈگی بجانے لگ جاتے ہیں ۔ خاص طور پر سوویت ناکامی اور فری مارکیٹ کے بعد ہم کچھ جنریشنز سے محروم ، ورکنگ کلاس سے باہر اور نظریاتی طور پر مفلوک الحال ، لبرل ازم سے بار بار دھوکہ کھانے کے باوجود دم چھلہ بنے رہنے سے باز نہیں آتے ۔

مڈل کلاس، مڈل کلاس کھیل کی وجہ سے پیٹی بورژوا   رجحانات حاوی ہو جاتے ہیں ۔ قیادتوں پر قبضہ کی الگ سے خباثتیں ہیں۔ سامراجی مالی مفادات میں اتنی مقناطیسی کشش ہوتی ہے۔

 ہم ان کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں ۔ NGOs سمیت دیگر سو قسم کے ذرائع موجود ہیں ۔

جب پارٹیوں کے اندر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ تو نظریاتی کمزوریاں اور سامراجی مالی مفادات گروہی سیاست کو جنم دیتے ہیں۔ معروضی نگاہ کی بجائے فرد ، گروہ اور موضوعیت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں ۔ پارٹیاں مزید انتشار کا شکار ہو جاتی ہیں۔

—♦—
Azam
مصنف کے بارے

رانا اعظم کا تعلق عوامی ورکرز پارٹی سے ہے، آپ بائیں بازو کے منجھے ہوئے نظریاتی لوگوں میں سے ہیں اور اکثر سیاسی، سماجی اور فلسفیانہ موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

">
ADVERTISEMENT
Advertisement. Scroll to continue reading.
">

آج کے عنوان کا موضوع ہے، کیا ہماری سیاست کے اُصول کوئی ٹھوس حقیقت رکھتے ہیں، یا صرف ذاتی جذبہ و احساس، پسند ناپسند یا man to man کی بنیاد پر تبدیل ہوتے رہتے ہیں ؟۔ ہم نے سیاست کا لفظ لکھ کر اپنی گفتگو کا حدود اربعہ مقرر کر دیا ہے۔

ہماری گفتگو بائیں بازو کی سیاست کے اُصولوں تک محدود رہے گی۔ ساتھ ہی ہم اُصول کے معنی بھی بیان کرتے جائیں، حالانکہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض الفاظ، اصطلاحات اور ان کے معنی اتنے مستعمل ہوتے ہیں۔ ان کی تعریف و تشریح مزید اُلجھاؤ پیدا کر دیتی ہے۔ بھر بھی کچھ دوست اور کچھ نہیں ملتا تو اس قسم کے غیر ضروری سوالات اُٹھا دیتے ہی۔ جیسا کہ گزشتہ ایک مضمون بعنوان ”   ہم یاسیت کی عیاشی کے متحمل نہیں ہو سکتے!“ پر یاسیت کی تعریف کے نہ ہونے کا اُٹھا دیا۔ ورنہ مایوسی کی مزید کیا تعریف ؟ ۔ جب کہ گفتگو کا موضوع بھی واضع ہو۔ سوائے مزید ابہام پیدا کرنے کے۔

ہم اُصول کو کسی بھی نظام، وقوعہ اور مظہر کا بنیادی منطقی لیڈنگ آئیڈیا، طور طریق، طرزِ عمل کے معنی میں لے رہے ہیں۔

جیسا کہ عرض کر چکے ہیں کہ ہم پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست کے اندر رہ کر گفتگو کرنے کی کوشش کریں گے۔ ممکن ہے دورانِ مکالمہ کہیں پارٹی کا حوالہ آ جائے۔ تو ہم اپنے ذمہ لے لیں گے۔ ہمیں کسی دوسری پارٹی پر بات کرنے کا حق نہیں ہے۔ ورنہ تو سب ایک جیسی صورتحال سے دوچار ہیں۔ دوسرے دوست جانیں ان کا کام جانے۔ ہماری بحث بہت بنیادی ہے۔

کیا ہم لیفٹ کی سیاست کر رہے ہیں ؟،  اگر جواب ہاں میں ہے تو ہماری سیاست غیر طبقاتی سماج کے قیام کی ہے ، جو طبقاتی جدوجہد کے بغیر ناممکن ہے۔ طبقاتی جدوجہد، سامراج دشمنی، اجارہ دار سرمایہ داری کا خاتمہ و دیگر۔

ہر ملک/سماج کے اپنے مخصوص تضادات بھی ہوتے ہیں ، جیسے ہمارے ہاں پاکستان ایک کثیرالقومی نیم سرمایہ دارانہ ریاست ہونے کی بنا پر قومی سوال، نیم قبائلی، نیم جاگیردارانہ کی بنیاد پر خواتین کی سوشیواکنامک برابری ، سیکولر ازم ، چین ، انڈیا، ایران، افغانستان اور خطے کے دیگر پڑوسی ممالک سے دوستی، تجارت کے سوالات ہماری سیاست کے salient features ہیں۔ ہاں اور بھی بہت سے تضادات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ جن سے انکار ممکن نہ ہو۔

اب ہم جب ان کو سیاسی دستاویز میں لکھنے پر اتفاق کر لیتے ہیں۔ تب سٹریٹجی اور لائحہ عمل کا مرحلہ آتا ہے ۔ ہم پھر اپنی اپنی ڈگڈگی بجانے لگ جاتے ہیں ۔ خاص طور پر سوویت ناکامی اور فری مارکیٹ کے بعد ہم کچھ جنریشنز سے محروم ، ورکنگ کلاس سے باہر اور نظریاتی طور پر مفلوک الحال ، لبرل ازم سے بار بار دھوکہ کھانے کے باوجود دم چھلہ بنے رہنے سے باز نہیں آتے ۔

مڈل کلاس، مڈل کلاس کھیل کی وجہ سے پیٹی بورژوا   رجحانات حاوی ہو جاتے ہیں ۔ قیادتوں پر قبضہ کی الگ سے خباثتیں ہیں۔ سامراجی مالی مفادات میں اتنی مقناطیسی کشش ہوتی ہے۔

 ہم ان کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں ۔ NGOs سمیت دیگر سو قسم کے ذرائع موجود ہیں ۔

جب پارٹیوں کے اندر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ تو نظریاتی کمزوریاں اور سامراجی مالی مفادات گروہی سیاست کو جنم دیتے ہیں۔ معروضی نگاہ کی بجائے فرد ، گروہ اور موضوعیت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں ۔ پارٹیاں مزید انتشار کا شکار ہو جاتی ہیں۔

—♦—
Azam
مصنف کے بارے

رانا اعظم کا تعلق عوامی ورکرز پارٹی سے ہے، آپ بائیں بازو کے منجھے ہوئے نظریاتی لوگوں میں سے ہیں اور اکثر سیاسی، سماجی اور فلسفیانہ موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

">
ADVERTISEMENT
Tags: CapitalismElections 2024ImperialismLeftObjectivityPakistanPoliticsPrincipalitySubjectivity
">
ADVERTISEMENT
للکار نیوز

للکار نیوز

RelatedPosts

استعماری میڈیا کا محکوم قوموں سے سلوک

by للکار نیوز
اپریل 6, 2025
0
0

اگرچہ بظاہر استعماریت کا خاتمہ گزشتہ صدی میں ہو چکا ہے، لیکن حقیقت میں مغربی طاقتیں اپنی سابقہ نوآبادیات پر...

سندھ اور صوفی ازم ؟ – تحریر: بخشل تھلہو

by للکار نیوز
اکتوبر 13, 2024
0
0

پنجاب سے ہمارے اک سینئر تنظیمی ساتھی لکھ رہے ہیں؛” 1۔ صوفی ازم کے تارکِ دُنیا کے فلسفے کیا کریں...

پاکستانی کشمیر میں مذہبی انتہا پسندی کی بڑھتی ہوئی لہر۔۔۔خدشات و خطرات!- تحریر: ڈاکٹر توقیر گیلانی

by للکار نیوز
اکتوبر 5, 2024
1
0

پاکستانی معاشرہ شدت پسندجتھوں اور فرقہ پرست مُلاؤں کی جنت میں تبدیل ہوچکا ہے۔ بلاسفیمی کے الزامات کا شکار افراد...

کیمونسٹ راہنما سیتارام یچوری بھی چل بسے! – تحریر: پرویزفتح

by للکار نیوز
ستمبر 27, 2024
0
0

پانچ دہائیوں تک ہندوستان کی قومی سیاست میں نمایاں کردار ادا کرنے والے برِصغیر کے نامور مارکسی مفکر، انقلابی تحریکوں...

بلوچ جدوجہد اور بلوچوں کی تاریخی حقیقت؟ – تحریر:ممتاز احمد آرزو

by للکار نیوز
ستمبر 26, 2024
0
0

ہر چند کہ ہم میں سے کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ کسی بھی مظلوم قوم، طبقے یا...

کالے کوئلے کو سفید بنانے والی ”دانائی“ اور ماحولیاتی سوال! – تحریر:بخشل تھلہو

by للکار نیوز
ستمبر 8, 2024
0
0

اس اگست کی دو تاریخ کو نصیر میمن صاحب نے اپنی فیس بک وال پر ایک پوسٹ کی، جس میں...

">
ADVERTISEMENT

Follow Us

Browse by Category

  • home
  • Uncategorized
  • اداریہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • خبریں
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • سماجی مسائل
  • سیاسی معیشت
  • فنون و ادب
  • ماحولیات
  • مضامین
  • ویڈیوز

Recent News

استعماری میڈیا کا محکوم قوموں سے سلوک

اپریل 6, 2025

سندھ اور صوفی ازم ؟ – تحریر: بخشل تھلہو

اکتوبر 13, 2024
  • ہمارے بارے میں
  • للکار پر اشتہار دیں
  • ادارتی پالیسی
  • رابطہ کریں

Daily Lalkaar© 2024

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • ادارتی پالیسی
  • رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
  • للکار پر اشتہار دیں

Daily Lalkaar© 2024

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.