• Latest

عمران خان اور مقدمے

اگست 29, 2023

استعماری میڈیا کا محکوم قوموں سے سلوک

اپریل 6, 2025

سندھ اور صوفی ازم ؟ – تحریر: بخشل تھلہو

اکتوبر 13, 2024

پاکستانی کشمیر میں مذہبی انتہا پسندی کی بڑھتی ہوئی لہر۔۔۔خدشات و خطرات!- تحریر: ڈاکٹر توقیر گیلانی

اکتوبر 5, 2024

صیہونیت کے خلاف توانا آواز حسن نصر اللہ فضائی حملے میں شہید!

ستمبر 28, 2024

کیمونسٹ راہنما سیتارام یچوری بھی چل بسے! – تحریر: پرویزفتح

ستمبر 27, 2024
">
ADVERTISEMENT
  • ہمارے بارے میں
  • للکار پر اشتہار دیں
  • ادارتی پالیسی
  • رابطہ کریں
منگل, ستمبر 16, 2025
Daily Lalkaar
  • صفحۂ اول
  • تازہ ترین
    • خبریں
  • پاکستان
    • سماجی مسائل
    • سیاسی معیشت
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • بین الاقوامی
  • فنون و ادب
  • ماحولیات
  • مضامین
  • ویڈیوز
  • اداریہ
  • صفحۂ اول
  • تازہ ترین
    • خبریں
  • پاکستان
    • سماجی مسائل
    • سیاسی معیشت
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • بین الاقوامی
  • فنون و ادب
  • ماحولیات
  • مضامین
  • ویڈیوز
  • اداریہ
No Result
View All Result
Daily Lalkaar
No Result
View All Result
">
Home home مضامین

عمران خان اور مقدمے

سرمایہ دارانہ نظام کے کل پرزے اور نیو امپیرئیل ازم کے اس ایجنٹ نے پاکستانی ریاست کے راستے میں ایسے کانٹے بو دئیے ہیں کہ انہیں صاف کرنا کوئی آسان کام نہیں۔

للکار نیوز by للکار نیوز
اگست 29, 2023
in پاکستان, مضامین
A A
0

ایک مصیبت سے نکل کر دوسری اور پھر تیسری مصیبت میں گرفتار ہو جانا اب تقدیر نہیں کہلوائے گی بلکہ یہ طاقت کے اظہار کی وہ اسکواش گیند ہے جو ریباؤنڈ ہو کر عمران خان سے خود ٹکراتی رہے گی جب تک کہ ” کھیل کا وقت” ختم نہ ہو جائے کیونکہ یہ کھیل تو خان نے ہی خود شروع کیا تھا۔

عمران خان کی سیاست میں دلچسپی تو ایک عرصہ سے رہی تھی لیکن ورلڈ کپ جیتنے کے بعد شوکت خانم کی فنڈ ریزنگ کے دوران اِسے احساس ہوا کہ اس ملک میں سیاست مفت بری اور طاقت کے بے پناہ استعمال کا آسان ترین راستہ ہے جو حکمران استعمال کرتے رہے ہیں۔

سو اس نے خود بڑھ کر اس کھیل میں قدم رکھ دیا اور پھرطاقت ور حلقوں کے ذریعے ہی حکمران بن گیا۔ طاقت اور دولت کا فطری کمال یہ ہے کہ وہ انسان کی وحشیانہ جبلت کو مکمل طور پر کھول دیتی ہے۔
اسی لیے مذاہب ان دونوں عناصر کو انسان کا بدترن دشمن قرار دیتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ انسان کا امتحان شروع ہوگیا۔

 

خان ایک معمولی لیکن مکار ذہن کا شخص تھا وہ اقتدار کی طاقت کا اسیر ہو کر اپنی جبلت سے مجبور ہو کر حکمرانی کے نشے میں سب سے لڑ بیٹھا۔اور زیادہ طاقت وروں نے اب اسے نکال باہر کر دیا ہے۔ اب وہ تاریخ کا حصہ ہی رہے گا۔ بھلے وہ جیل کے اندر ہو یا باہر۔

 

دریں چی شک است کہ ہم آج گزشتہ آمروں کی بوئی ہوئی فصل ہی تو آج کاٹ رہے ہیں ۔ جو معاشرتی و معاشی بربادی ‘ تضحیک ‘ مذہبی فقہی اور لسانی تفریق سماج میں پہلے ہی ضیا کے وقت سے پیدا ہو چکی تھی ۔ خان نے اس میں نفرت کے بیج بو کر اپنے کلٹ یا مقبولیت کی کھاد سے اس ملک کی پوری نئی فصل کو زہریلا کر دیا۔
یاد رہے کہ ایسی صورت میں فصل کو جلانا پڑتا ہے تاکہ نئی فصل انسان کے لیے بہتر آئے لیکن یہاں فصل نہیں نسلِ انسانی کا سوال ہے ۔

چنانچہ سماج جب تک خود اس کا ادراک نہیں کرے گا جب تک کھیت زہریلے ہی رہیں گے۔
خان نے صدیوں کی بربادی اپنی حکمرانی کے چند برس میں کر دی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کے کل پرزے اور نیو امپیرئیل ازم کے اس ایجنٹ نے پاکستانی ریاست کے راستے میں ایسے کانٹے بو دئیے ہیں کہ اب پاکستان کے ترقی پسند ادیب و شاعر پاکستان کے دیگر نظریاتی طبقات اہل علم و ادب کے ساتھ شامل بھی ہوجائیں تو تب بھی سماج کی درستگی میں بہت عرصہ درکار ہوگا تب جا کر ریاست درست سمت میں سفر کرنے کے قابل ہوگی ۔

—♦—



ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے سنئیر وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک ملکی و عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے تاحیات ممبر ہیں۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

">
ADVERTISEMENT
Advertisement. Scroll to continue reading.
">

ایک مصیبت سے نکل کر دوسری اور پھر تیسری مصیبت میں گرفتار ہو جانا اب تقدیر نہیں کہلوائے گی بلکہ یہ طاقت کے اظہار کی وہ اسکواش گیند ہے جو ریباؤنڈ ہو کر عمران خان سے خود ٹکراتی رہے گی جب تک کہ ” کھیل کا وقت” ختم نہ ہو جائے کیونکہ یہ کھیل تو خان نے ہی خود شروع کیا تھا۔

عمران خان کی سیاست میں دلچسپی تو ایک عرصہ سے رہی تھی لیکن ورلڈ کپ جیتنے کے بعد شوکت خانم کی فنڈ ریزنگ کے دوران اِسے احساس ہوا کہ اس ملک میں سیاست مفت بری اور طاقت کے بے پناہ استعمال کا آسان ترین راستہ ہے جو حکمران استعمال کرتے رہے ہیں۔

سو اس نے خود بڑھ کر اس کھیل میں قدم رکھ دیا اور پھرطاقت ور حلقوں کے ذریعے ہی حکمران بن گیا۔ طاقت اور دولت کا فطری کمال یہ ہے کہ وہ انسان کی وحشیانہ جبلت کو مکمل طور پر کھول دیتی ہے۔
اسی لیے مذاہب ان دونوں عناصر کو انسان کا بدترن دشمن قرار دیتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ انسان کا امتحان شروع ہوگیا۔

 

خان ایک معمولی لیکن مکار ذہن کا شخص تھا وہ اقتدار کی طاقت کا اسیر ہو کر اپنی جبلت سے مجبور ہو کر حکمرانی کے نشے میں سب سے لڑ بیٹھا۔اور زیادہ طاقت وروں نے اب اسے نکال باہر کر دیا ہے۔ اب وہ تاریخ کا حصہ ہی رہے گا۔ بھلے وہ جیل کے اندر ہو یا باہر۔

 

دریں چی شک است کہ ہم آج گزشتہ آمروں کی بوئی ہوئی فصل ہی تو آج کاٹ رہے ہیں ۔ جو معاشرتی و معاشی بربادی ‘ تضحیک ‘ مذہبی فقہی اور لسانی تفریق سماج میں پہلے ہی ضیا کے وقت سے پیدا ہو چکی تھی ۔ خان نے اس میں نفرت کے بیج بو کر اپنے کلٹ یا مقبولیت کی کھاد سے اس ملک کی پوری نئی فصل کو زہریلا کر دیا۔
یاد رہے کہ ایسی صورت میں فصل کو جلانا پڑتا ہے تاکہ نئی فصل انسان کے لیے بہتر آئے لیکن یہاں فصل نہیں نسلِ انسانی کا سوال ہے ۔

چنانچہ سماج جب تک خود اس کا ادراک نہیں کرے گا جب تک کھیت زہریلے ہی رہیں گے۔
خان نے صدیوں کی بربادی اپنی حکمرانی کے چند برس میں کر دی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کے کل پرزے اور نیو امپیرئیل ازم کے اس ایجنٹ نے پاکستانی ریاست کے راستے میں ایسے کانٹے بو دئیے ہیں کہ اب پاکستان کے ترقی پسند ادیب و شاعر پاکستان کے دیگر نظریاتی طبقات اہل علم و ادب کے ساتھ شامل بھی ہوجائیں تو تب بھی سماج کی درستگی میں بہت عرصہ درکار ہوگا تب جا کر ریاست درست سمت میں سفر کرنے کے قابل ہوگی ۔

—♦—



ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے سنئیر وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک ملکی و عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے تاحیات ممبر ہیں۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

">
ADVERTISEMENT
Tags: Case against ImranElections 2024Imran KhanPakistanPoliticsPTI
">
ADVERTISEMENT
للکار نیوز

للکار نیوز

RelatedPosts

استعماری میڈیا کا محکوم قوموں سے سلوک

by للکار نیوز
اپریل 6, 2025
0
0

اگرچہ بظاہر استعماریت کا خاتمہ گزشتہ صدی میں ہو چکا ہے، لیکن حقیقت میں مغربی طاقتیں اپنی سابقہ نوآبادیات پر...

سندھ اور صوفی ازم ؟ – تحریر: بخشل تھلہو

by للکار نیوز
اکتوبر 13, 2024
0
0

پنجاب سے ہمارے اک سینئر تنظیمی ساتھی لکھ رہے ہیں؛” 1۔ صوفی ازم کے تارکِ دُنیا کے فلسفے کیا کریں...

پاکستانی کشمیر میں مذہبی انتہا پسندی کی بڑھتی ہوئی لہر۔۔۔خدشات و خطرات!- تحریر: ڈاکٹر توقیر گیلانی

by للکار نیوز
اکتوبر 5, 2024
1
0

پاکستانی معاشرہ شدت پسندجتھوں اور فرقہ پرست مُلاؤں کی جنت میں تبدیل ہوچکا ہے۔ بلاسفیمی کے الزامات کا شکار افراد...

کیمونسٹ راہنما سیتارام یچوری بھی چل بسے! – تحریر: پرویزفتح

by للکار نیوز
ستمبر 27, 2024
0
0

پانچ دہائیوں تک ہندوستان کی قومی سیاست میں نمایاں کردار ادا کرنے والے برِصغیر کے نامور مارکسی مفکر، انقلابی تحریکوں...

بلوچ جدوجہد اور بلوچوں کی تاریخی حقیقت؟ – تحریر:ممتاز احمد آرزو

by للکار نیوز
ستمبر 26, 2024
0
0

ہر چند کہ ہم میں سے کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ کسی بھی مظلوم قوم، طبقے یا...

کالے کوئلے کو سفید بنانے والی ”دانائی“ اور ماحولیاتی سوال! – تحریر:بخشل تھلہو

by للکار نیوز
ستمبر 8, 2024
0
0

اس اگست کی دو تاریخ کو نصیر میمن صاحب نے اپنی فیس بک وال پر ایک پوسٹ کی، جس میں...

">
ADVERTISEMENT

Follow Us

Browse by Category

  • home
  • Uncategorized
  • اداریہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • خبریں
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • سماجی مسائل
  • سیاسی معیشت
  • فنون و ادب
  • ماحولیات
  • مضامین
  • ویڈیوز

Recent News

استعماری میڈیا کا محکوم قوموں سے سلوک

اپریل 6, 2025

سندھ اور صوفی ازم ؟ – تحریر: بخشل تھلہو

اکتوبر 13, 2024
  • ہمارے بارے میں
  • للکار پر اشتہار دیں
  • ادارتی پالیسی
  • رابطہ کریں

Daily Lalkaar© 2024

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • ادارتی پالیسی
  • رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
  • للکار پر اشتہار دیں

Daily Lalkaar© 2024

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.