• Latest

طبقاتی نظام اور شعور کا فقدان!

اگست 30, 2023

استعماری میڈیا کا محکوم قوموں سے سلوک

اپریل 6, 2025

سندھ اور صوفی ازم ؟ – تحریر: بخشل تھلہو

اکتوبر 13, 2024

پاکستانی کشمیر میں مذہبی انتہا پسندی کی بڑھتی ہوئی لہر۔۔۔خدشات و خطرات!- تحریر: ڈاکٹر توقیر گیلانی

اکتوبر 5, 2024

صیہونیت کے خلاف توانا آواز حسن نصر اللہ فضائی حملے میں شہید!

ستمبر 28, 2024

کیمونسٹ راہنما سیتارام یچوری بھی چل بسے! – تحریر: پرویزفتح

ستمبر 27, 2024
">
ADVERTISEMENT
  • ہمارے بارے میں
  • للکار پر اشتہار دیں
  • ادارتی پالیسی
  • رابطہ کریں
منگل, ستمبر 16, 2025
Daily Lalkaar
  • صفحۂ اول
  • تازہ ترین
    • خبریں
  • پاکستان
    • سماجی مسائل
    • سیاسی معیشت
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • بین الاقوامی
  • فنون و ادب
  • ماحولیات
  • مضامین
  • ویڈیوز
  • اداریہ
  • صفحۂ اول
  • تازہ ترین
    • خبریں
  • پاکستان
    • سماجی مسائل
    • سیاسی معیشت
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • بین الاقوامی
  • فنون و ادب
  • ماحولیات
  • مضامین
  • ویڈیوز
  • اداریہ
No Result
View All Result
Daily Lalkaar
No Result
View All Result
">
Home home مضامین

طبقاتی نظام اور شعور کا فقدان!

حکمران طبقہ پچھلے 76 سالوں سے اپنے طبقاتی مفادات کے پیشِ نظر محنت کشوں اور غریب طبقات کا استحصال جاری رکھے ہوئے ہے۔

للکار نیوز by للکار نیوز
اگست 30, 2023
in مضامین
A A
0

طبقاتی تفریق سے بھرپور پاکستان ایک ایسا خطہ ارض ہے جہاں امیر،امیر سے امیر تر اورغریب،  غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا ہے ۔ حکمران طبقہ جو اس ملک کے وسائل ، ریاست اور سیاست سب پر قابض ہے ، روز اول سے ہی غربیوں پر بھاری ٹیکسوں کا بوجھ لاد کر خود عیاشیوں میں مصروف ہے۔ جس کی وجہ سے ملک بھر میں غریب کی زندگی کو آئی ایم ایف کی شرائط کے  تابع گروی رکھ دیا گیا ہے۔ حکمرانوں کی جانب سے لئے  گئے بین الاقوامی قرضہ جات کی وجہ سے پاکستان کا غریب آدمی آج چکی کے دو پاٹوں میں پس رہا ہے، اور اس کا کوئی بھی پرسانِ حال نہیں ۔جبکہ حکمران طبقے کی عیاشیاں اور مفت خوریا ں اُسی شدو مد سے جاری ہیں جیسے کہ پیچھے 76 سالوں سے چلی آ رہی ہیں۔

آجکل اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے نہیں بلکہ ساتویں آسمان سے باتیں کررہی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں اور نا ہی کوئی قانون ہے۔جس کے تحت اس ملک کو بہتر طریقے سے چلایا جائے ۔ عوامی مفاد میں اگرکبھی چند  قوانین عوامی دباؤ کے نتیجے میں بن بھی گئے تھے تو آج تک ان کا اطلاق ایک سوالیہ نشان ہے۔ گران فروشی اورسرمایہ داروں کی  کارٹیلائزیشن  معمول بن چکے ہیں۔ سب کے سب جیسے عوام کا خون نچوڑنے کے لئے متحد ہیں۔

لیکن افسوس جہاں قانون سرمایہ دار کے گھر کی لونڈی ہو وہاں انصاف ٹکوں پہ بکنا کوئی بڑی بات نہیں ۔ کچھ ایسا ہی ہمارے ہاں بھی ہوتا ہے ۔غریب پہلے تو ڈر اور خوف کی بنا پر عدالت سے اس لئے رجوع نہیں کرتا کہ اس کے پاس وکیل کا  پیٹ بھرنے کے لئے پیسہ نہیں ہوتا اور اگر کوئی رو دھو کر وکیل سے رجوع کر کے اپنا کیس عدالت میں پیش کرتا ہے تو عدالت اسے ناکوں چنے چبواتی ہے اور تاریخ پر تاریخ ڈالتی رہتی ہے جس کی وجہ سے کئی کئی سال بندہ وکیل کچہری کے چکر سے تنگ آ جاتا ہے ۔یہ وہ خوف ہے جو پسماندہ طبقات کو سرمایہ دار کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتا ہے اور اصل میں یہی تو سرمایہ دار چاہتا ہے اور جب وہ دیکھتا ہے کہ غریب طبقہ اس کے خوف مبتلا ہو گیا ہے تو وہ اس کے استحصال  اور آہستہ آہستہ ظلم میں ایسے اضافہ کرتے چلا جاتا ہے کہ کسی کو خبر تک نہیں ہوتی ۔اس کی زندہ مثال موجودہ صورت حال ہے ۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جب پہلی بار پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر کوئی ردِ عمل نہیں آیا تو حکومت نے اس میں مزید اضافہ کیا اور پھر کوئی ہلچل نہ ہوئی،  جس کی بنا پر حکومت کی موجیں لگ گئیں پھر کیا اب ہر روز اضافہ ہو رہا ہے اور کسی کو کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا ۔کیونکہ غریب بندہ جائے تو کہاں جائے اگر عدالت جائے گا تو جج صاحب خود پٹرول فری لے رہا ہے تو وہ کسی بھی صورت اس کیس کو حل نہیں کرے گا ۔ اور اپر کلاس ایسا کیس عدالت میں کبھی لے کر نہیں جائے گی۔ کیونکہ اسے تو پہلے ہی پٹرول کسی نا کسی مد میں فری مل جاتا ہے ۔

 طبقاتی نظام  میں یہاں صرف پٹرول ہی میں نہیں بلکہ ہر چیز میں یہ تقسیم ڈال دی گئی ہے ۔( پٹرول کو میں نے اس لئے ہائی لائٹ کیا کیونکہ جب پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو ہر چیز میں یہ کہہ کر دو گنا زیادہ اضافہ کر دیا جاتا ہے کہ پٹرول کی قیمت بڑھ گئی ہے ۔)

یہ جو پچھلے 76 سالوں سے طبقاتی نظام چل رہا ہے اب اس کو ختم ہونا چاہیے ۔ اور یہ ختم اسی صورت میں ہو گا جب نچلے طبقے میں شعور کا فقدان ختم ہو گا اور اس بات کا شعور آئے گا کہ ہم کسی کے غلام نہیں ہم ہر چیز پہ ٹیکس ادا کرتے ہیں ۔اور حکومت ہم سے جو ٹیکس لیتی ہے اس کا استعمال کہاں کہاں کرتی ہے ۔ کیا وہ ٹیکس عوام کی فلاح وبہبود کے لئے استعمال ہو رہا ہے یا اشرافیہ اس ٹیکس کو اپنی عیاشیوں کی نظر کر رہے ہیں ۔

جب تک عوام میں اس بات کا شعور نہیں آتا غریب، غریب سے غریب تر ہوتا چلا جائے گا اور امیر، امیر سے امیر تر ہوتا رہے گا ۔عوام کو اپنے اندر یہ احساس پیدا کرنا ہو گا کہ ہمیں اپنے حق کے لئے ملکی قوانین کو کیسے نافذ کروانا ہے ۔جب تک طبقات سے بالاتر ہو کر قوانین کا نفاذ عمل میں نہیں لایا جاتا اس وقت تک  یہ سب نہیں بدلے گا ۔ لہٰذا سوچ کو بدلو تو نظام بدلے گا ۔نظام بدلے گا تو انسان کی تقدیر بدلے گی ! 

 

—♦—

 سفینہ حسن سماجی، سیاسی اور عوامی مسائل پر لکھتی رہتی ہیں، ان کا تعلق لاہور سے ہے اور گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان کی مزدور تحریک اور ترقی پسند سیاست سے بھی منسلک ہیں۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

">
ADVERTISEMENT
Advertisement. Scroll to continue reading.
">

طبقاتی تفریق سے بھرپور پاکستان ایک ایسا خطہ ارض ہے جہاں امیر،امیر سے امیر تر اورغریب،  غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا ہے ۔ حکمران طبقہ جو اس ملک کے وسائل ، ریاست اور سیاست سب پر قابض ہے ، روز اول سے ہی غربیوں پر بھاری ٹیکسوں کا بوجھ لاد کر خود عیاشیوں میں مصروف ہے۔ جس کی وجہ سے ملک بھر میں غریب کی زندگی کو آئی ایم ایف کی شرائط کے  تابع گروی رکھ دیا گیا ہے۔ حکمرانوں کی جانب سے لئے  گئے بین الاقوامی قرضہ جات کی وجہ سے پاکستان کا غریب آدمی آج چکی کے دو پاٹوں میں پس رہا ہے، اور اس کا کوئی بھی پرسانِ حال نہیں ۔جبکہ حکمران طبقے کی عیاشیاں اور مفت خوریا ں اُسی شدو مد سے جاری ہیں جیسے کہ پیچھے 76 سالوں سے چلی آ رہی ہیں۔

آجکل اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے نہیں بلکہ ساتویں آسمان سے باتیں کررہی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں اور نا ہی کوئی قانون ہے۔جس کے تحت اس ملک کو بہتر طریقے سے چلایا جائے ۔ عوامی مفاد میں اگرکبھی چند  قوانین عوامی دباؤ کے نتیجے میں بن بھی گئے تھے تو آج تک ان کا اطلاق ایک سوالیہ نشان ہے۔ گران فروشی اورسرمایہ داروں کی  کارٹیلائزیشن  معمول بن چکے ہیں۔ سب کے سب جیسے عوام کا خون نچوڑنے کے لئے متحد ہیں۔

لیکن افسوس جہاں قانون سرمایہ دار کے گھر کی لونڈی ہو وہاں انصاف ٹکوں پہ بکنا کوئی بڑی بات نہیں ۔ کچھ ایسا ہی ہمارے ہاں بھی ہوتا ہے ۔غریب پہلے تو ڈر اور خوف کی بنا پر عدالت سے اس لئے رجوع نہیں کرتا کہ اس کے پاس وکیل کا  پیٹ بھرنے کے لئے پیسہ نہیں ہوتا اور اگر کوئی رو دھو کر وکیل سے رجوع کر کے اپنا کیس عدالت میں پیش کرتا ہے تو عدالت اسے ناکوں چنے چبواتی ہے اور تاریخ پر تاریخ ڈالتی رہتی ہے جس کی وجہ سے کئی کئی سال بندہ وکیل کچہری کے چکر سے تنگ آ جاتا ہے ۔یہ وہ خوف ہے جو پسماندہ طبقات کو سرمایہ دار کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتا ہے اور اصل میں یہی تو سرمایہ دار چاہتا ہے اور جب وہ دیکھتا ہے کہ غریب طبقہ اس کے خوف مبتلا ہو گیا ہے تو وہ اس کے استحصال  اور آہستہ آہستہ ظلم میں ایسے اضافہ کرتے چلا جاتا ہے کہ کسی کو خبر تک نہیں ہوتی ۔اس کی زندہ مثال موجودہ صورت حال ہے ۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جب پہلی بار پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر کوئی ردِ عمل نہیں آیا تو حکومت نے اس میں مزید اضافہ کیا اور پھر کوئی ہلچل نہ ہوئی،  جس کی بنا پر حکومت کی موجیں لگ گئیں پھر کیا اب ہر روز اضافہ ہو رہا ہے اور کسی کو کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا ۔کیونکہ غریب بندہ جائے تو کہاں جائے اگر عدالت جائے گا تو جج صاحب خود پٹرول فری لے رہا ہے تو وہ کسی بھی صورت اس کیس کو حل نہیں کرے گا ۔ اور اپر کلاس ایسا کیس عدالت میں کبھی لے کر نہیں جائے گی۔ کیونکہ اسے تو پہلے ہی پٹرول کسی نا کسی مد میں فری مل جاتا ہے ۔

 طبقاتی نظام  میں یہاں صرف پٹرول ہی میں نہیں بلکہ ہر چیز میں یہ تقسیم ڈال دی گئی ہے ۔( پٹرول کو میں نے اس لئے ہائی لائٹ کیا کیونکہ جب پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو ہر چیز میں یہ کہہ کر دو گنا زیادہ اضافہ کر دیا جاتا ہے کہ پٹرول کی قیمت بڑھ گئی ہے ۔)

یہ جو پچھلے 76 سالوں سے طبقاتی نظام چل رہا ہے اب اس کو ختم ہونا چاہیے ۔ اور یہ ختم اسی صورت میں ہو گا جب نچلے طبقے میں شعور کا فقدان ختم ہو گا اور اس بات کا شعور آئے گا کہ ہم کسی کے غلام نہیں ہم ہر چیز پہ ٹیکس ادا کرتے ہیں ۔اور حکومت ہم سے جو ٹیکس لیتی ہے اس کا استعمال کہاں کہاں کرتی ہے ۔ کیا وہ ٹیکس عوام کی فلاح وبہبود کے لئے استعمال ہو رہا ہے یا اشرافیہ اس ٹیکس کو اپنی عیاشیوں کی نظر کر رہے ہیں ۔

جب تک عوام میں اس بات کا شعور نہیں آتا غریب، غریب سے غریب تر ہوتا چلا جائے گا اور امیر، امیر سے امیر تر ہوتا رہے گا ۔عوام کو اپنے اندر یہ احساس پیدا کرنا ہو گا کہ ہمیں اپنے حق کے لئے ملکی قوانین کو کیسے نافذ کروانا ہے ۔جب تک طبقات سے بالاتر ہو کر قوانین کا نفاذ عمل میں نہیں لایا جاتا اس وقت تک  یہ سب نہیں بدلے گا ۔ لہٰذا سوچ کو بدلو تو نظام بدلے گا ۔نظام بدلے گا تو انسان کی تقدیر بدلے گی ! 

 

—♦—

 سفینہ حسن سماجی، سیاسی اور عوامی مسائل پر لکھتی رہتی ہیں، ان کا تعلق لاہور سے ہے اور گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان کی مزدور تحریک اور ترقی پسند سیاست سے بھی منسلک ہیں۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

">
ADVERTISEMENT
Tags: Class DividePakistanRuling ClassWorking CLass
">
ADVERTISEMENT
للکار نیوز

للکار نیوز

RelatedPosts

استعماری میڈیا کا محکوم قوموں سے سلوک

by للکار نیوز
اپریل 6, 2025
0
0

اگرچہ بظاہر استعماریت کا خاتمہ گزشتہ صدی میں ہو چکا ہے، لیکن حقیقت میں مغربی طاقتیں اپنی سابقہ نوآبادیات پر...

سندھ اور صوفی ازم ؟ – تحریر: بخشل تھلہو

by للکار نیوز
اکتوبر 13, 2024
0
0

پنجاب سے ہمارے اک سینئر تنظیمی ساتھی لکھ رہے ہیں؛” 1۔ صوفی ازم کے تارکِ دُنیا کے فلسفے کیا کریں...

پاکستانی کشمیر میں مذہبی انتہا پسندی کی بڑھتی ہوئی لہر۔۔۔خدشات و خطرات!- تحریر: ڈاکٹر توقیر گیلانی

by للکار نیوز
اکتوبر 5, 2024
1
0

پاکستانی معاشرہ شدت پسندجتھوں اور فرقہ پرست مُلاؤں کی جنت میں تبدیل ہوچکا ہے۔ بلاسفیمی کے الزامات کا شکار افراد...

کیمونسٹ راہنما سیتارام یچوری بھی چل بسے! – تحریر: پرویزفتح

by للکار نیوز
ستمبر 27, 2024
0
0

پانچ دہائیوں تک ہندوستان کی قومی سیاست میں نمایاں کردار ادا کرنے والے برِصغیر کے نامور مارکسی مفکر، انقلابی تحریکوں...

بلوچ جدوجہد اور بلوچوں کی تاریخی حقیقت؟ – تحریر:ممتاز احمد آرزو

by للکار نیوز
ستمبر 26, 2024
0
0

ہر چند کہ ہم میں سے کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ کسی بھی مظلوم قوم، طبقے یا...

کالے کوئلے کو سفید بنانے والی ”دانائی“ اور ماحولیاتی سوال! – تحریر:بخشل تھلہو

by للکار نیوز
ستمبر 8, 2024
0
0

اس اگست کی دو تاریخ کو نصیر میمن صاحب نے اپنی فیس بک وال پر ایک پوسٹ کی، جس میں...

">
ADVERTISEMENT

Follow Us

Browse by Category

  • home
  • Uncategorized
  • اداریہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • خبریں
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • سماجی مسائل
  • سیاسی معیشت
  • فنون و ادب
  • ماحولیات
  • مضامین
  • ویڈیوز

Recent News

استعماری میڈیا کا محکوم قوموں سے سلوک

اپریل 6, 2025

سندھ اور صوفی ازم ؟ – تحریر: بخشل تھلہو

اکتوبر 13, 2024
  • ہمارے بارے میں
  • للکار پر اشتہار دیں
  • ادارتی پالیسی
  • رابطہ کریں

Daily Lalkaar© 2024

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • ادارتی پالیسی
  • رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
  • للکار پر اشتہار دیں

Daily Lalkaar© 2024

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.