گزشتہ چند روز سے حقوقِ خلق پارٹی کے راہنما عمار علی جان اپنے تین رکنی وفد کے ہمراہ ایران کے دورے پر ہیں۔ ان کا یہ خصوصی دورہ امریکی واسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے ایرانی سپریم لیڈر سید علی حسینی خامنائی کی آخری رسومات میں شرکت کرنا تھا۔ عمار جان کی فیس بک پر کی گئی ایک فخریہ پوسٹ پر بائیں بازو کے متعدد لوگ ان کے اس دورے پر بات کر رہے ہیں، جس پر عمار جان نے ایک تفصیلی پوسٹ لکھتے ہوئے کہا کہ؛
”دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران میں جنازے کے لئے ہمیں دعوت وہاں کے لیفٹ کے گروپ نے دی۔ لبنان، فلسطین، امریکہ، اٹلی، چین، کیوبا، روس، وینزویلا، برازیل، کینیا، جنوبی افریقہ اور دیگر کئی ممالک کے کمیونسٹ اور سوشلسٹ پارٹیوں کے نمائندے ان تقریبات میں شامل تھے۔ سوال ہے کہ کیا وہ سب کسی مذہبی فرقے سے عقیدت میں آئے تھے یا معروضی و تاریخی حالات کا تجزیہ کرکے علی خامنائی کو خراج عقیدت پیش کررہے تھے؟“
عمار جان نے اپنی اس پوسٹ میں ان کے اس عمل پر تنقید کرتے ہوئے جوابی حملے کرکے انہیں لبرل اور اسرائیل کے حامی ہونے کے القابات سے بھی نوازا ہے۔ اب آئیے اس ضمن میں چند بنیادی عناصر پربات کرلیتے ہیں۔ عمار جان جو کہ سوشلسٹ ہونے کے دعویدار ہیں اور یہ مختلف جامعات میں تاریخ اور سیاسیات بھی پڑھاتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ انہوں نے نہ تو تاریخ سے کچھ سیکھا ہے اور نہ ہی یہ نظریاتی سیاست کے بنادی اصولوں پر عمل پیرا ہیں (ناواقف یا نابلد میں بالکل نہیں کہوں گا کیونکہ موصوف کئی برسوں سے کسی نہ کسی طورپر بائیں بازو کی سیاست میں شامل رہے ہیں)۔
آگے چل کر اسی پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ؛
”سیاسی تجزیہ کرنے کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ معروض کے اندر موجود تضادات کا صحیح ادراک کیا جائے اور خصوصی طور پر کسی بھی لڑائی کے دوران بنیادی تضاد کی نشاندہی کی جائے۔ مغربی ایشیا میں 1945سے لے کر اب تک بنیادی تضاد کیا رہا ہے؟ بلاشبہ یہ تضاد امریکی اور صہونی قوتوں کیاس خطے میں غلبہ ہے جس نے نہ صرف فلسطین کے وجود کو مٹا دیا بلکہ پورے خطے کو عسکری نظریے کے تابع کردیا۔ یہ عالمی سطح پر طبقاتی جدوجہد کی ایک علامت ہے کیونکہ سامراج غریب ممالک کے وسائل پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے راج کی ایک مثال ہے۔“
اوپر دئیے گئے کوٹ میں موصوف نے ایران اور امریکہ کی حالیہ لڑائی کو بنیادی تضاد قرار دیا، مگر ایرانی ریاست کے طبقاتی کردار، اندرونی جبر اور گزشتہ کئی دہائیوں کی توسیع پسندانہ پالیسیوں سے بالکل ہی آنکھیں موند لی ہیں۔موصوف جس کو بنیادی تضاد فرما رہے ہیں کیا یہ واقعی بنیادی سماجی تضاد ہے؟ نہیں۔۔۔ ہر گز نہیں! ایسی توجیہات محض اپنے موقع پر ستانہ عمل کو جائز اور درست قرار دینے کے لئے گھڑی جاتی ہیں یا پھر یہ نظریاتی دیوالیہ پن کا اظہار ہے۔ اب جبکہ عمار جان اس لڑائی کو بنیادی تضاد قرار دے چکے ہیں تو پھر یقیناً ان کے نزدیک طبقاتی سوال تو شاید کوئی سائیڈ ایشو رہ گیا ہو۔۔۔
ان موصوف سے سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ واقعی سامراج مخالف جنگ ہے، یا خطے میں دو رجعت پسند قوتوں کے درمیان طاقت کی کشمکش؟جس کی پشت پناہی امریکی سامراج کر رہا ہے۔ انہوں نے سوال کرنے والوں کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ جب کسی کے پاس تنقید کا جواب نہ ہو تو وہ عموماً دو کام کرتا ہے پہلا یہ کہ وہ ناقد پر کوئی لیبل لگا دیا ہے، یا یہ کہہ دیتا ہے کہ”اور بھی لوگ یہی کر رہے تھے“۔ مگریہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کسی عمل کا اجتماعی ہونا، اسے درست ثابت نہیں کرتا۔!
اب آئیے ڈاکٹر عمار جان کے مؤقف کو ذرا تاریخ کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ انہوں نے بھی لازمی طور پر یہ تاریخ ضرورپڑھ رکھی ہوگی۔ تو چلتے ہیں گزشتہ 5دہائیوں کی ایرانی تاریخ کی طرف۔سقوطِ شاہ کے بعد آیت اللہ خمینی کے دورِ حکومت میں مارکسسٹ، سوشلسٹ اور بائیں بازو کی دیگر تنظیموں بشمول تودہ پارٹی (Tudeh Party) اور سازمانِ فدایانِ خلق
(Fadayan-e-Khalq) کے ہزاروں کارکنان اور رہنماؤں کو ماورائے عدالت موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ جو 1981 سے 1988 کے کریک ڈاؤن اور بالخصوص 1988 کے بدنامِ زمانہ قیدیوں کے قتلِ عام کے دوران مروائے گئے۔
ملائیت کی بربریت یاس بات سے لگا لیجئے کہ جولائی 1988ء میں آیت اللہ خمینی نے جیلوں میں بند سیاسی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا ایک خفیہ فتویٰ جاری کیا۔ اور محض پانچ ماہ میں مجموعی ہلاکتوں کی تعدادتقریباً 30ہزار قیدیوں کو پھانسی دی گئی۔ مقتولین کی اکثریت مجاہدینِ خلق (MEK) سے تھی، تاہم تودہ پارٹی اور فدایانِ خلق (اکثریت اور اقلیت دونوں دھڑوں) کے سینکڑوں سوشلسٹ کارکنان اور دانشور بھی شامل تھے جنہیں نظریات تبدیل نہ کرنے پر سزائے موت دی گئی۔ اور تودہ پارٹی پر(Tudeh Party)1982-83ء میں یہ کہہ کر کریک ڈاؤن کیا گیا کہ تودہ پارٹی سوویت یونین کے لئے جاسوسی کرتی ہے۔ حالانکہ یہی تودہ پارٹی نے ابتداء میں اسلامی حکومت کی حمایت کی تھی، خمینی حکومت نے ان پر سوویت یونین کے لیے جاسوسی اور بغاوت کا الزام لگا کر پابندی عائد کر دی۔اس کے ساتھ ہی پارٹی کے سینئر رہنماؤں، دانشوروں اور فوج میں موجود ہمدردوں کو گرفتار کیا گیا۔اور فروری 1984ء میں ایرانی بحریہ کے سابق کمانڈر بہرام افضلی سمیت تودہ پارٹی کے 10 مرکزی رہنماؤں کو ایک ساتھ فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے ہلاک کیا گیا۔
اور دوسری طرف فدایانِ خلق (اقلیت) نے شروع سے ہی خمینی کی تھیوکریسی کی مخالفت کی تھی، جس کے نتیجے میں کردستان اور دیگر علاقوں میں ان کے خلاف خونی فوجی کارروائیاں کی گئیں۔اور انہیں جیلوں میں قتل کیا گیا، تنظیم کا وہ دھڑا جس نے حکومت کے ساتھ مفاہمت کی کوشش کی تھی (فدایانِ خلق – اکثریت)، انہیں بھی خمینی نے نہیں بخشا اور ان کے سینکڑوں ارکان کو گرفتار کر نے کے بعد 1988ء کے قتلِ عام میں پھانسیاں دے دی گئیں۔
ملائیت کی بربریت کا اندازہ اس سے بھی لگا لیجئے کہ قیدیوں کی موت کا فیصلہ کرنے کے لیے باقاعدہ ”ڈیتھ کمیٹیاں“ بنائی گئی تھیں، جو قیدیوں سے ان کے مذہبی اور سیاسی نظریات پر سوال کرتی تھیں۔ اگر کوئی سوشلسٹ حکومت کے حق میں بیان دینے سے انکار کرتا، تو اسے فوراً پھانسی کی طرف بھیج دیا جاتا۔اور ان تمام سوشلسٹ اور سیکولر قیدیوں کی لاشیں لواحقین کے حوالے کرنے کے بجائے تہران کے قریب خاوران قبرستان کی اجتماعی اور گمنام قبروں میں دفن کر دی گئیں۔
ڈاکٹر عمار علی جان جو کہ دنیا کی بہترین یونیوسٹیوں سے تاریخ اور سیاسیات میں ڈاکٹریٹ کر چکے ہیں اور اب متعدد پاکستانی جامعات میں پڑھاتے بھی ہیں تو کیا انہیں 1980ء کی دہائی میں تودہ پارٹی، فدایانِ خلق اور ہزاروں مارکسسٹوں کے قتل،اور 2022ء کی ”زن، زندگی، آزادی“ تحریک، کے ساتھ ساتھ مزدوروں، اساتذہ اور ٹرک ڈرائیورز کی حالیہ جدوجہد کا بالکل بھی علم نہیں ہے؟ یقیناً یہ سب جانتے ہیں! مگر ان کے پیش کردہ ”تجزیے“ یا دفاع میں یہ تمام حقائق مکمل طور پر غائب ہیں۔ سامراج کی مخالفت ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ ریاستی جبر پر خاموشی اختیار کرنا اُصولی مؤقف نہیں ہو سکتا۔اگرتو موصوف یہ دلیل بھی دیں کہ”دشمن کا دشمن دوست ہے“، تو پھر یہی منطق طالبان، حزب اللہ، حماس اور جماعت اسلامی بارے بھی درست ہونی چاہئے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب ریاست کے اوپر ایک ریاست ہے جس کا بنیادی مقصد ہی ایرانی ملائیت کے احکامات کا ہر طرح سے نفاذ عمل میں لانا ہے۔ ایسی ریاست کی نہ صرف حمایت کرنا بلکہ اس کے مذہبی پیشوا کی آخری رسومات میں شرکت کرتے ہوئے اسے باعث افتخار قرار دینا اور خود کو سوشلسٹ بھی کہنا دونوں ان کی اپنی سوچ کے اندر کے تضادات کی وضاحت کے سوا کچھ نہیں۔ اوپر سے جن افراد نے ان کے اس متضاد دورے پر سوالات اٹھائے ان پر ’لبرل‘ ہونے کا فتویٰ جاری کر دیا۔ حالانکہ موصوف کی ساری سیاست اور ان کا ہر عمل گہرے تضادات کا نمونہ ہے۔ ان کے والد محترم پیپلز پارٹی کے جیالے ہیں جبکہ ان کی ہمشیرہ پیپلز پارٹی میں سنٹرل پنجاب کی ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری ہیں۔اور کچھ عرصہ قبل عمار علی جان نے بھی پیپلز پارٹی کی قربت کی بہت کوششیں کیں لیکن لگتا ہے کہ ان کی بات نہیں بن پائی۔ اور اب موصوف عمران خان کی رہائی کے لئے سرتوڑ کوششوں میں بھی مصروف ہیں۔ اس ضمن میں تحریک تحفظ آئین پاکستان جو کہ تحریک انصاف سمیت متعدد سرمایہ داری کی حامی اور مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہے، اس میں شامل ہیں۔
ایسی سیاسی چھلانگیں کوئی اس وقت ہی لگا سکتا ہے کہ جب یا تو انتہا درجے کی موقع پرستی کسی کے پیش نظر ہو یا پھر کوئی نظریاتی دیوالیہ پن کا شکار ہوجائے۔
—♦—
طارق شہزاد ڈیلی للکار کے ایڈیٹر ہیں، اورگزشتہ 25 سالوں سے بائیں بازو کی تحریک کے ساتھ وابستہ ہیں۔ پاکستان میں محنت کشوں اور محروم طبقات کی نمائندہ سیاسی جماعت کے قیام کی کاوشیں کرتے چلے آرہے ہیں۔ آپ بائیں بازو کے متحرک نظریاتی لوگوں میں سے ہیں اور سیاسی، سماجی ، معاشی مسائل پر لکھتے رہتے ہیں۔
گزشتہ چند روز سے حقوقِ خلق پارٹی کے راہنما عمار علی جان اپنے تین رکنی وفد کے ہمراہ ایران کے دورے پر ہیں۔ ان کا یہ خصوصی دورہ امریکی واسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے ایرانی سپریم لیڈر سید علی حسینی خامنائی کی آخری رسومات میں شرکت کرنا تھا۔ عمار جان کی فیس بک پر کی گئی ایک فخریہ پوسٹ پر بائیں بازو کے متعدد لوگ ان کے اس دورے پر بات کر رہے ہیں، جس پر عمار جان نے ایک تفصیلی پوسٹ لکھتے ہوئے کہا کہ؛
”دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران میں جنازے کے لئے ہمیں دعوت وہاں کے لیفٹ کے گروپ نے دی۔ لبنان، فلسطین، امریکہ، اٹلی، چین، کیوبا، روس، وینزویلا، برازیل، کینیا، جنوبی افریقہ اور دیگر کئی ممالک کے کمیونسٹ اور سوشلسٹ پارٹیوں کے نمائندے ان تقریبات میں شامل تھے۔ سوال ہے کہ کیا وہ سب کسی مذہبی فرقے سے عقیدت میں آئے تھے یا معروضی و تاریخی حالات کا تجزیہ کرکے علی خامنائی کو خراج عقیدت پیش کررہے تھے؟“
عمار جان نے اپنی اس پوسٹ میں ان کے اس عمل پر تنقید کرتے ہوئے جوابی حملے کرکے انہیں لبرل اور اسرائیل کے حامی ہونے کے القابات سے بھی نوازا ہے۔ اب آئیے اس ضمن میں چند بنیادی عناصر پربات کرلیتے ہیں۔ عمار جان جو کہ سوشلسٹ ہونے کے دعویدار ہیں اور یہ مختلف جامعات میں تاریخ اور سیاسیات بھی پڑھاتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ انہوں نے نہ تو تاریخ سے کچھ سیکھا ہے اور نہ ہی یہ نظریاتی سیاست کے بنادی اصولوں پر عمل پیرا ہیں (ناواقف یا نابلد میں بالکل نہیں کہوں گا کیونکہ موصوف کئی برسوں سے کسی نہ کسی طورپر بائیں بازو کی سیاست میں شامل رہے ہیں)۔
آگے چل کر اسی پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ؛
”سیاسی تجزیہ کرنے کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ معروض کے اندر موجود تضادات کا صحیح ادراک کیا جائے اور خصوصی طور پر کسی بھی لڑائی کے دوران بنیادی تضاد کی نشاندہی کی جائے۔ مغربی ایشیا میں 1945سے لے کر اب تک بنیادی تضاد کیا رہا ہے؟ بلاشبہ یہ تضاد امریکی اور صہونی قوتوں کیاس خطے میں غلبہ ہے جس نے نہ صرف فلسطین کے وجود کو مٹا دیا بلکہ پورے خطے کو عسکری نظریے کے تابع کردیا۔ یہ عالمی سطح پر طبقاتی جدوجہد کی ایک علامت ہے کیونکہ سامراج غریب ممالک کے وسائل پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے راج کی ایک مثال ہے۔“
اوپر دئیے گئے کوٹ میں موصوف نے ایران اور امریکہ کی حالیہ لڑائی کو بنیادی تضاد قرار دیا، مگر ایرانی ریاست کے طبقاتی کردار، اندرونی جبر اور گزشتہ کئی دہائیوں کی توسیع پسندانہ پالیسیوں سے بالکل ہی آنکھیں موند لی ہیں۔موصوف جس کو بنیادی تضاد فرما رہے ہیں کیا یہ واقعی بنیادی سماجی تضاد ہے؟ نہیں۔۔۔ ہر گز نہیں! ایسی توجیہات محض اپنے موقع پر ستانہ عمل کو جائز اور درست قرار دینے کے لئے گھڑی جاتی ہیں یا پھر یہ نظریاتی دیوالیہ پن کا اظہار ہے۔ اب جبکہ عمار جان اس لڑائی کو بنیادی تضاد قرار دے چکے ہیں تو پھر یقیناً ان کے نزدیک طبقاتی سوال تو شاید کوئی سائیڈ ایشو رہ گیا ہو۔۔۔
ان موصوف سے سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ واقعی سامراج مخالف جنگ ہے، یا خطے میں دو رجعت پسند قوتوں کے درمیان طاقت کی کشمکش؟جس کی پشت پناہی امریکی سامراج کر رہا ہے۔ انہوں نے سوال کرنے والوں کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ جب کسی کے پاس تنقید کا جواب نہ ہو تو وہ عموماً دو کام کرتا ہے پہلا یہ کہ وہ ناقد پر کوئی لیبل لگا دیا ہے، یا یہ کہہ دیتا ہے کہ”اور بھی لوگ یہی کر رہے تھے“۔ مگریہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کسی عمل کا اجتماعی ہونا، اسے درست ثابت نہیں کرتا۔!
اب آئیے ڈاکٹر عمار جان کے مؤقف کو ذرا تاریخ کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ انہوں نے بھی لازمی طور پر یہ تاریخ ضرورپڑھ رکھی ہوگی۔ تو چلتے ہیں گزشتہ 5دہائیوں کی ایرانی تاریخ کی طرف۔سقوطِ شاہ کے بعد آیت اللہ خمینی کے دورِ حکومت میں مارکسسٹ، سوشلسٹ اور بائیں بازو کی دیگر تنظیموں بشمول تودہ پارٹی (Tudeh Party) اور سازمانِ فدایانِ خلق
(Fadayan-e-Khalq) کے ہزاروں کارکنان اور رہنماؤں کو ماورائے عدالت موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ جو 1981 سے 1988 کے کریک ڈاؤن اور بالخصوص 1988 کے بدنامِ زمانہ قیدیوں کے قتلِ عام کے دوران مروائے گئے۔
ملائیت کی بربریت یاس بات سے لگا لیجئے کہ جولائی 1988ء میں آیت اللہ خمینی نے جیلوں میں بند سیاسی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا ایک خفیہ فتویٰ جاری کیا۔ اور محض پانچ ماہ میں مجموعی ہلاکتوں کی تعدادتقریباً 30ہزار قیدیوں کو پھانسی دی گئی۔ مقتولین کی اکثریت مجاہدینِ خلق (MEK) سے تھی، تاہم تودہ پارٹی اور فدایانِ خلق (اکثریت اور اقلیت دونوں دھڑوں) کے سینکڑوں سوشلسٹ کارکنان اور دانشور بھی شامل تھے جنہیں نظریات تبدیل نہ کرنے پر سزائے موت دی گئی۔ اور تودہ پارٹی پر(Tudeh Party)1982-83ء میں یہ کہہ کر کریک ڈاؤن کیا گیا کہ تودہ پارٹی سوویت یونین کے لئے جاسوسی کرتی ہے۔ حالانکہ یہی تودہ پارٹی نے ابتداء میں اسلامی حکومت کی حمایت کی تھی، خمینی حکومت نے ان پر سوویت یونین کے لیے جاسوسی اور بغاوت کا الزام لگا کر پابندی عائد کر دی۔اس کے ساتھ ہی پارٹی کے سینئر رہنماؤں، دانشوروں اور فوج میں موجود ہمدردوں کو گرفتار کیا گیا۔اور فروری 1984ء میں ایرانی بحریہ کے سابق کمانڈر بہرام افضلی سمیت تودہ پارٹی کے 10 مرکزی رہنماؤں کو ایک ساتھ فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے ہلاک کیا گیا۔
اور دوسری طرف فدایانِ خلق (اقلیت) نے شروع سے ہی خمینی کی تھیوکریسی کی مخالفت کی تھی، جس کے نتیجے میں کردستان اور دیگر علاقوں میں ان کے خلاف خونی فوجی کارروائیاں کی گئیں۔اور انہیں جیلوں میں قتل کیا گیا، تنظیم کا وہ دھڑا جس نے حکومت کے ساتھ مفاہمت کی کوشش کی تھی (فدایانِ خلق – اکثریت)، انہیں بھی خمینی نے نہیں بخشا اور ان کے سینکڑوں ارکان کو گرفتار کر نے کے بعد 1988ء کے قتلِ عام میں پھانسیاں دے دی گئیں۔
ملائیت کی بربریت کا اندازہ اس سے بھی لگا لیجئے کہ قیدیوں کی موت کا فیصلہ کرنے کے لیے باقاعدہ ”ڈیتھ کمیٹیاں“ بنائی گئی تھیں، جو قیدیوں سے ان کے مذہبی اور سیاسی نظریات پر سوال کرتی تھیں۔ اگر کوئی سوشلسٹ حکومت کے حق میں بیان دینے سے انکار کرتا، تو اسے فوراً پھانسی کی طرف بھیج دیا جاتا۔اور ان تمام سوشلسٹ اور سیکولر قیدیوں کی لاشیں لواحقین کے حوالے کرنے کے بجائے تہران کے قریب خاوران قبرستان کی اجتماعی اور گمنام قبروں میں دفن کر دی گئیں۔
ڈاکٹر عمار علی جان جو کہ دنیا کی بہترین یونیوسٹیوں سے تاریخ اور سیاسیات میں ڈاکٹریٹ کر چکے ہیں اور اب متعدد پاکستانی جامعات میں پڑھاتے بھی ہیں تو کیا انہیں 1980ء کی دہائی میں تودہ پارٹی، فدایانِ خلق اور ہزاروں مارکسسٹوں کے قتل،اور 2022ء کی ”زن، زندگی، آزادی“ تحریک، کے ساتھ ساتھ مزدوروں، اساتذہ اور ٹرک ڈرائیورز کی حالیہ جدوجہد کا بالکل بھی علم نہیں ہے؟ یقیناً یہ سب جانتے ہیں! مگر ان کے پیش کردہ ”تجزیے“ یا دفاع میں یہ تمام حقائق مکمل طور پر غائب ہیں۔ سامراج کی مخالفت ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ ریاستی جبر پر خاموشی اختیار کرنا اُصولی مؤقف نہیں ہو سکتا۔اگرتو موصوف یہ دلیل بھی دیں کہ”دشمن کا دشمن دوست ہے“، تو پھر یہی منطق طالبان، حزب اللہ، حماس اور جماعت اسلامی بارے بھی درست ہونی چاہئے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب ریاست کے اوپر ایک ریاست ہے جس کا بنیادی مقصد ہی ایرانی ملائیت کے احکامات کا ہر طرح سے نفاذ عمل میں لانا ہے۔ ایسی ریاست کی نہ صرف حمایت کرنا بلکہ اس کے مذہبی پیشوا کی آخری رسومات میں شرکت کرتے ہوئے اسے باعث افتخار قرار دینا اور خود کو سوشلسٹ بھی کہنا دونوں ان کی اپنی سوچ کے اندر کے تضادات کی وضاحت کے سوا کچھ نہیں۔ اوپر سے جن افراد نے ان کے اس متضاد دورے پر سوالات اٹھائے ان پر ’لبرل‘ ہونے کا فتویٰ جاری کر دیا۔ حالانکہ موصوف کی ساری سیاست اور ان کا ہر عمل گہرے تضادات کا نمونہ ہے۔ ان کے والد محترم پیپلز پارٹی کے جیالے ہیں جبکہ ان کی ہمشیرہ پیپلز پارٹی میں سنٹرل پنجاب کی ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری ہیں۔اور کچھ عرصہ قبل عمار علی جان نے بھی پیپلز پارٹی کی قربت کی بہت کوششیں کیں لیکن لگتا ہے کہ ان کی بات نہیں بن پائی۔ اور اب موصوف عمران خان کی رہائی کے لئے سرتوڑ کوششوں میں بھی مصروف ہیں۔ اس ضمن میں تحریک تحفظ آئین پاکستان جو کہ تحریک انصاف سمیت متعدد سرمایہ داری کی حامی اور مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہے، اس میں شامل ہیں۔
ایسی سیاسی چھلانگیں کوئی اس وقت ہی لگا سکتا ہے کہ جب یا تو انتہا درجے کی موقع پرستی کسی کے پیش نظر ہو یا پھر کوئی نظریاتی دیوالیہ پن کا شکار ہوجائے۔
—♦—
طارق شہزاد ڈیلی للکار کے ایڈیٹر ہیں، اورگزشتہ 25 سالوں سے بائیں بازو کی تحریک کے ساتھ وابستہ ہیں۔ پاکستان میں محنت کشوں اور محروم طبقات کی نمائندہ سیاسی جماعت کے قیام کی کاوشیں کرتے چلے آرہے ہیں۔ آپ بائیں بازو کے متحرک نظریاتی لوگوں میں سے ہیں اور سیاسی، سماجی ، معاشی مسائل پر لکھتے رہتے ہیں۔














