<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	
	>
<channel>
	<title>
	تبصرے برائے: کارپوریٹ اداروں کی ادب اور ثقافتی سرگرمیوں کی سرپرستی: ایک پیچیدہ گفتگو	</title>
	<atom:link href="https://dailylalkaar.com/2724-2/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailylalkaar.com/2724-2/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=2724-2</link>
	<description>عوام کی للکار</description>
	<lastBuildDate>Fri, 10 May 2024 20:44:15 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.8.1</generator>
	<item>
		<title>
		منجانب: للکار نیوز 		</title>
		<link>https://dailylalkaar.com/2724-2/#comment-116</link>

		<dc:creator><![CDATA[للکار نیوز]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 10 May 2024 20:44:15 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">https://dailylalkaar.com/?p=2724#comment-116</guid>

					<description><![CDATA[In reply to &lt;a href=&quot;https://dailylalkaar.com/2724-2/#comment-115&quot;&gt;ریاض احمد&lt;/a&gt;.

جناب ریاض احمد صاحب مضمون کی پسندیدگی کا شکریہ۔ جہاں تک مضمون کی اردو زبان کا تعلق ہے تو صاحب مضمون اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں کمال مہارت رکھتے ہیں اور یہ درست ہے کہ یہ مضمون انہوں نے انگریزی میں لکھا تھا جسے للکار ٹیم کی درخواست پر اردو کے قالب میں منتقل کرکے اردو قارئین تک اس اہم موضوع کو پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ایسی ہی عمدہ تحریریں مستقبل میں بھی پڑھنے کو ملتی رہیں گی۔ اور ٹقلین امام صاحب بھی ایسے اہم موضوعات کو قلمبند کرتے رہیں گے۔ 
للکار ترقی پسند اور بائیں بازو کے نظریات کا حامل ادارہ ہے اور محنت کش عوام کے حق میں جانبداری کا قائل ہے۔ آپ بھی اپنی تحریریں ہمیں بھیج سکتے ہیں۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>In reply to <a href="https://dailylalkaar.com/2724-2/#comment-115">ریاض احمد</a>.</p>
<p>جناب ریاض احمد صاحب مضمون کی پسندیدگی کا شکریہ۔ جہاں تک مضمون کی اردو زبان کا تعلق ہے تو صاحب مضمون اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں کمال مہارت رکھتے ہیں اور یہ درست ہے کہ یہ مضمون انہوں نے انگریزی میں لکھا تھا جسے للکار ٹیم کی درخواست پر اردو کے قالب میں منتقل کرکے اردو قارئین تک اس اہم موضوع کو پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ایسی ہی عمدہ تحریریں مستقبل میں بھی پڑھنے کو ملتی رہیں گی۔ اور ٹقلین امام صاحب بھی ایسے اہم موضوعات کو قلمبند کرتے رہیں گے۔<br />
للکار ترقی پسند اور بائیں بازو کے نظریات کا حامل ادارہ ہے اور محنت کش عوام کے حق میں جانبداری کا قائل ہے۔ آپ بھی اپنی تحریریں ہمیں بھیج سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
		
			</item>
		<item>
		<title>
		منجانب: ریاض احمد 		</title>
		<link>https://dailylalkaar.com/2724-2/#comment-115</link>

		<dc:creator><![CDATA[ریاض احمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 10 May 2024 19:54:57 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">https://dailylalkaar.com/?p=2724#comment-115</guid>

					<description><![CDATA[موضوع تو خوب ہے البتہ ثقلین صاحب نے اردو لگتا ہے chatgpt سے لکھوا لی ہے. مضمون کی روح انگریزی لگتی ہے. موضوع کی ایک. اچھی مثال کراچی و دیگر شہروں میں لٹریچر فیسٹول اور عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے افتتاحی اجلاسوں میں مغربی سفارتکاروں کا اسٹیج پکڑنا ہے. اور انکے ساتھ بڑی کمپنیوں کے مالکان کو ثقافت کا پیامبر بنا کر پیش کرنا ہے. البتہ یہاں دو پیچ ہیں. اول، آڈینس میں طلبہ کی اچھی خاصی تعداد قوم پرست رحجان رکھتی ہے اور وہ سندھی بلاچ پشتون مسئلہ کو کبھی حامد. میر تو کبھی حنیف (دونوں ہی ان قوموں سے نہیں) کی معتبر زبان کی صورت ہی مغربی سفارتکاروں تک پہنچانے میں ان فیسٹولز. کو مددگات سمجھتی ہے. ایسے ہی انور مقصود جیسے بے کار افراد کی زبانی مبہم طنز کے ساتھ فوج اور پنجابیوں کے غلبے کو ایکسپوز ہوتا دیکھ کر سکون قلب حاصل کیا جاتا ہے کہ چلو کوئی تو. دوئم، ترقی کا مغربی تصور از. خود سرمائے کے گرد ہے. اور اس تصور کو مشرق کے طلبہ اور دانشوروں کی بڑی تعداد نے گرہ. سے باند رکھا ہے. وہ. خود بھی سہل پسند ہیں اور کاروبار میں چھکے پر جہا‌ یقین رکھتے ہیں وہیں اپنے ادب کی پزیرائی کے لیے ایسے ہی چھکوں کی تلاش میں ہیں. عوام اور مسائل سے جڑے ادب کو. کسی فیسٹول. کی چنداں ضرورت نہیں.]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>موضوع تو خوب ہے البتہ ثقلین صاحب نے اردو لگتا ہے chatgpt سے لکھوا لی ہے. مضمون کی روح انگریزی لگتی ہے. موضوع کی ایک. اچھی مثال کراچی و دیگر شہروں میں لٹریچر فیسٹول اور عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے افتتاحی اجلاسوں میں مغربی سفارتکاروں کا اسٹیج پکڑنا ہے. اور انکے ساتھ بڑی کمپنیوں کے مالکان کو ثقافت کا پیامبر بنا کر پیش کرنا ہے. البتہ یہاں دو پیچ ہیں. اول، آڈینس میں طلبہ کی اچھی خاصی تعداد قوم پرست رحجان رکھتی ہے اور وہ سندھی بلاچ پشتون مسئلہ کو کبھی حامد. میر تو کبھی حنیف (دونوں ہی ان قوموں سے نہیں) کی معتبر زبان کی صورت ہی مغربی سفارتکاروں تک پہنچانے میں ان فیسٹولز. کو مددگات سمجھتی ہے. ایسے ہی انور مقصود جیسے بے کار افراد کی زبانی مبہم طنز کے ساتھ فوج اور پنجابیوں کے غلبے کو ایکسپوز ہوتا دیکھ کر سکون قلب حاصل کیا جاتا ہے کہ چلو کوئی تو. دوئم، ترقی کا مغربی تصور از. خود سرمائے کے گرد ہے. اور اس تصور کو مشرق کے طلبہ اور دانشوروں کی بڑی تعداد نے گرہ. سے باند رکھا ہے. وہ. خود بھی سہل پسند ہیں اور کاروبار میں چھکے پر جہا‌ یقین رکھتے ہیں وہیں اپنے ادب کی پزیرائی کے لیے ایسے ہی چھکوں کی تلاش میں ہیں. عوام اور مسائل سے جڑے ادب کو. کسی فیسٹول. کی چنداں ضرورت نہیں.</p>
]]></content:encoded>
		
			</item>
	</channel>
</rss>
